Saturday, 24 November 2012

سنان و خنجر و کمان ، مشک و چادر و علم ------ نشانیوں کا ایک عجیب سلسلہ ہے کربلا

وہ عابد ے بیمار تھا 
چلنے سے جو لا چار تھا 
اور شام کا بازار تھا 
اور مصطفیٰ کی بیٹیاں 
-----------------

"الحفیظ ، الامان "
جس ہاتھ سے تھپڑ پڑے وہ ہاتھ اک کردار تھا
عارض سکینہ کے نہ تھے تاریخ کا رخسار تھا

سہمی سہمی ہوئی کانوں کو چھپا لیتی ہے 
جب سکینہ کو "مسلمان" نظر اتے ہیں

  • سینے میں نیزہ، حلق پہ خنجر،زباں پہ شکر ---- یہ حلم بجز حسین بھلا کس بشر میں ہے

کردیا ثابت یہ تو نیں اے دلاور آدمی 
زندگی کیا موت سے لیتا ہے ٹکر آدمی 
کاٹ سکتا ہے رگ ے گردن سے خنجر آدمی 
لشکروں کو روند سکتے ہیں بہتر آدمی
پھر بشر کے ذہن پر عکس جنوں ہے یا حسین
پھر حقیقت رہن اوہام و فسوں ہے یا حسین 
پھر سے اقدار نازک غرک خون ہے یا حسین 
پھر بشر باطل کے آگے سر نگوں ہے یا حسین
خاک ہوجا خشک ہوکر خاک میں مل جا فرات 
خاک تجھ پر دیکھ کھہ سوکھی زبانیں اہل بیت 

تیری قدرت جانور تک آب سے سیراب ہوں 
پیاس کی شدت میں تڑپے بے زبان اہل بیت 

ان کا پاکی کا خدا پاک کرتا ہے بیان 
آیات ے تطہیر سے ظاہر ہے شان اہل بیت 

ان کے گھر میں بے اجازت جبریل اتے نہیں 
قدر والے جانتے ہیں قدر و شان اہل بیت

خاموش کنارہ کہہ دے گا 
جو بات کہ اصغر کہ نہ سکے
بہتا ہوا دریا کہہ دے گا 
کس طرح جوانی خاک ہوئی
لیلیٰ کا کلیجہ کہہ دے گا 
بہتے ہوۓ آنسوؤں کہہ دیں گے 
اترا ہوا چہرہ کہہ دے گا 
رحمت کی نواسی کا عالم
اٹھتا ہوا پردہ کہہ دے گا 
کس طرح چھینی سر سے چادر
جلتا ہوا خیمہ کہہ دے گا 
کس طرح گیے اصغر رن میں
آباد ہوئی کیوں کر تربت 
بانو کی اداسی کہہ دے گی 
اجڑا ہوا جھولا کہہ دے گا 
اکبر کی اجل آیی پہلے
یا برجھی کا پھل نکا پہلے 
شبیر کی قسمت کہہ دے گی
اکبر کا کلیجہ کہہ دے گا 
امّت کے لیے اصغر آیے
پانی نہ ملا پیاسے ہی گیے 
چپ ہوگی اگر ننھی سی لحد
اجڑھا ہوا جھولا کہہ دے گا 
ہر گام پہ ٹھوکر کھا کھا کر
جب باپ پسر کو ڈھونڈے گا 
کس سمت اکبرہے کی میّت
الجھا ہوا راستہ کہ دے گا 
شادی سے غرض ،شادی کب تھی 
یہ درس الم تھا دنیا کو 
کچھ دیر کا دولہا کہہ دے گا 
اجڑا ہوا سہرا کہہ دے گا
جو بات کہ اصغر کہہ نہ سکے
بہتا ہوا دریا کہہ دے گا