افغانستان میں مارے جانے والےکالعدم شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کون تھے؟
عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ضلع میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران بر سرِ پیکار کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ افغانستان میں ایک دھماکے میں مبینہ طور پر ہلاک ہوگئے ہیں۔
افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے گورنرضیا الحق امرخیل نے بی بی سی کو اپنے ایک آڈیو پیغام میں بتایا ہے کہ منگل باغ ننگر ہار کے ضلع اچینی میں ایک دھماکے میں اپنے دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغانستان کے سکیورٹی حکام کی جانب سے اب تک اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔
منگل باغ کی ہلاکت کی خبر اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ذرائع ابلاغ میں آئی ہے۔ پہلی مرتبہ یہ خبر 22 جولائی 2016 میں سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ ننگر ہار میں ایک ڈرون حملے میں منگل باغ ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد سنہ 2017 میں اس کی تردید کر دی گئی تھی۔ اسی طرح 2019 میں بھی منگل باغ کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی لیکن اس کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔
ننگر ہار کے گورنر ضیا الحق امرخیل نے جمعرات کو اپنے آفیشل ٹویٹر پیغام میں بھی کہا ہے کہ منگل باغ بارودی سرنگ کے دھماکہ میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس پیغام میں انھوں نے کہا کہ یہ بارودی سرنگیں ان شدت پسند تنظیموں نے جگہ جگہ بچھا رکھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ منگل باغ اور اس کے ساتھیوں کا اس علاقے میں تشدد کے متعدد واقعات میں ہاتھ تھا۔
منگل باغ کون تھے؟
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں متعدد شدت پسند تنظیمیں اور گروہ سامنے آئے ان میں منگل باغ جیسی شخصیات کا چرچا بھی زبان زد عام رہا جو بظاہر لوگوں کو امن اور انصاف فراہم کرنے کے نعرے لگاتے رہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے ضلع خیبر میں لشکر اسلام نامی تنظیم کے سربراہ منگل باغ کا دور گزرا ہے جہاں منگل باغ کا قانون اور حکم چلتا تھا اور وہ اس علاقے میں ایک خوف کی علامت بن چکے تھے۔
ان کے نام سے پرچیاں تقسیم کی جاتیں اور لوگوں کو ان کے جرائم کے بارے بتایا جاتا اور انھیں سزائیں بھی سنائی جاتی تھیں۔
منگل باغ آفریدی قبیلے کی شاخ سپاہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ 1973 میں باڑہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے بارے میں دستیاب معلومات کے مطابق وہ بس کنڈیکٹر تھے اور پھر بس ڈرائیور رہے تھے لیکن سال 2004 کے بعد جب اس خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جا رہی تھی ان دنوں میں ضلع خیبر میں شدت پسند تنظیمں قائم ہو رہی تھیں۔
منگل باغ نے ابتدائی طور پر سابقہ خیبر ایجنسی اور انضمام کے بعد ضلع خیبر قرار دیے جانے والے علاقے میں پنج پیری رہنما مفتی منیر شاکر سے متاثر ہوئے اور علاقے میں اس وقت بریلوی مسلک کے رہنما مفتی سیف الرحمان کے خلاف تحریک کا آغاز کیا۔
ضلع خیبر کے حالات پر نظر رکھے سینیئر صحافی ولی خان شنواری نے بی بی سی کو بتایا جب دونوں تنظیموں کے کشیدگی بڑھ گئی تھی تو اس وقت مقامی انتظامیہ نے کارروائی کی اور دونوں رہنماؤں کو علاقہ بدر کر دیا گیا جس کے بعد منگل باغ نے لشکر اسلام نامی تنظیم کو فعال کیا۔
انھوں نے بتایا کہ سال 2006 میں اپنی ہی تنظیم کے سپریم لیڈر بن گئے اور انھوں نے مقامی سطح پر ایف ایم ریڈیو کی بنیاد ڈالی جہاں سے وہ اپنے پیغامات نشر کیا کرتے تھے۔ شدت پسند تنظیمیں اور قائدین اپنے اپنے علاقوں میں ایف ایم ریڈیو کا استعمال کیا کرتے تھے جیسے ملاکنڈ ڈویژن میں تحریک طالبان پاکستان کے سابق رہنما ملا فضل اللہ بھی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے ہی اپنے پیغامات جاری کیا کرتے تھے۔
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
صحافی محمود جان بابر نے منگل باغ سے ملاقات بھی کی تھی اور ان کے مشاہدے کے مطابق جب منگل باغ نے تحصیل باڑہ اور اس کے قریبی علاقوں میں اپنا اثر قائم کرنا شروع کیا تو ایسا تاثر پیدا ہوا کہ شاید ایسا نظام آیا ہے جس میں اسلامی خلافت کی بات ہو رہی تھی اور اس سے ان سے ملاقات کا شوق پیدا ہوا تھا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل باغ کے بارے میں ایسی اطلاع درست نہیں تھی کہ وہ ان لوگوں سے نہیں ملتے جن کے سر پر ٹوپی نہ ہو کیونکہ وہ ان سے جینز پہن کر ملے تھے۔
محمود جان بابر نے بتایا کہ جب انھوں نے منگل باغ سے پوچھا کہ وہ کس اسلامی نظام سے متاثر ہیں تو منگل باغ نے اس کا جواب نہیں دیا تھا اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔
ان کا کہنا تھا منگل باغ کو جو بنیادی باتیں معلوم تھیں وہی بتا رہے تھے اور ان کی باتوں میں کوئی گہرائی نظر نہیں آئی بلکہ ایک سادہ انسان تھے جنھیں بہت ساری باتوں کا علم نہیں تھا۔
منگل باغ جب عروج پر تھے تو اس وقت موسیقی پر پابندی عائد تھی اور موسیقی سے تعلق رکھنے والے افراد کو لے جا کر انھیں جرمانہ کیا جاتا اور انھیں موسیقی اور اداکاری سے دور رہنے کا کہتے تھے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عقیل یوسفزیی نے بتایا کہ انھوں نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ منگل باغ اور ان کے ساتھین پورے علاقےکو اپنے اثر میں لیا ہے اور اراکین اسمبلی سے فنڈز اکٹھے کرتے ہیں اور اس پروگرام کے دوران ہی سخت رد عمل سامنے آیا اور پھر انتہائی مہذب انداز میں دھمکیاں دی تھی اور اس پر حامد میر نے سٹینڈ لیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ منگل باغ ایک روایتی آدمی تھے اور وہ اصلاحات کا ایجنڈا لے کر سامنے آئے اور مقامی انتظامیہ نے ان کی اس پر حمایت کی کہ بااثر آدمی اس علاقے میں اپنا اثر رسوغ استعمال کرکے حالات بہتر کر سکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ منگل باغ کمانڈر بن گئے اور پھر تیراہ میں تشدد کے واقعات شروع ہوئے جس کے خلاف پھر انصار الاسلام نامی تنظیمی بنائی گئی اور پھر منگل باغ نہ صرف قبائلی علاقے بلکہ پشاور اور کوہاٹ تک لوگوں کے لیے ایک خطرہ بن گئے تھے۔
محمود جان بابر کے مطابق منگل باغ نے بھی لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے علاقے میں امن قائم کرنے اور انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس علاقے میں بد امنی کے واقعات اور بے انصافی کی وجہ سے لوگ تنگ تھے اس لیے کچھ لوگوں نے اس علاقے میں ان کی حمایت کی تھی۔
ولی خان شنواری کے مطابق جب حالات انتہائی کشیدہ ہوئے تو سال 2008 میں سکیورٹی فورسز نے لشکر اسلام کالعدم قرار دے کر فوجی آپریشن کیا اور منگل باغ تیراہ کے علاقے میں روپوش ہو گئے تھے اور وہاں بھی ان کے خلاف فوجی آپریشن کیے گئے تھے۔ پاکستان اور امریکہ نے پھر 2009 میں منگل باغ کے سر کی قیمت بھی مقرر کر دی تھی۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسند تنظیوں کے خلاف فوجی آپریشنز کی وجہ سے اکثر شدت پسند افغانستان فرار ہو گئے تھے۔ منگل باغ بھی افغانستان کے علاقے ننگر ہار میں روپوش تھے جہاں وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقیم تھے۔
Pakistan democratic movement (PDM) is threatening the PTI govt with resignation from assemblies and launching a popular movement against them. Is it really possible for the PDM to do this without any help from the all-powerful military establishment? This is a key question on the minds of many political analysts. Pakistani politics is a very interesting field who has its power players. Its most important player, the military establishment, as it seems they are fully backing the PTI govt.
But the failures of PTI to perform has definitely put them on the back foot. They would definitely want to support the PTI govt and would love to see it succeed. But at the same time they will definitely not like to share the burden of its failure.
In the current situation I feel Pakistan military establishment can be convinced to withdraw backings of the PTI government for an in house change. But in this PDM will have to give some space and concessions to the Military establishment. This could be a safe exit to the two main architects of this fassade of the PTI government and some tweekings of the 18th amendment.
Will all PDM parties and military-establishment agree to this; is a question worth a wait. If not then I don't think PPP and (Shahbaz element in) the PMLN will go ahead for a final show down battle with the establishment backed PTI in Islamabad. In that case we will have to wait for the next elections 2023 in a post Bajco world.
میرا نہیں کوئی بھی سیاسی رہنما جو پاکستان کا وزیراعظم یا صدر رہا ہو وہ یہ چاہیے کہ وہ عوام کو ایسٹیبلشمنٹ مطلب فوج کے سامنے لا کھڑا کرے۔
کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ایسا کرنے اس کی تو شاید جیے جیے کار ہوجائے لیکن ملک اور سیاست کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا-
اس لیے نواز شہباز زرداری مولانا سب یہی کوشش کر رھے ہیں کہ کسی طرح فوج کو محبور/راضی کیا جا سکے کہ آپ اپنا کام کریں اور سیاست سیاست دانوں کو کرنے دیں
اور جونہی فوج کی بیساکھیاں خان کے نیچے سے ہٹیں گی تو پھر سیاست اپنا راستہ خود بنا لے گی۔
اگر دو تین جرنیلوں نے آخری حد تک جانے کا فیصلہ کیا تو پھر اللہ جانے اونٹ کس کروٹ بیٹھے۔ لیکن یاد رھے نواز زرداری مولانا کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے۔
امید کافی ہے کہ ان کو عقل آجائے گی اور بات آخری حد نہیں جائے گی۔
جہاں تک استعفوں کا معاملہ ہے ہر پارٹی اپنے ممبرز سے استیفیٰ لے کر اپنے پاس رکھے گی اور صرف اور صرف اس وقت یہ آپشن استعمال کرے گئ جب یہ قطعی یقین ہوگا کہ اب یہ خان کی سیاسی تابوت میں آخری کیل ہوگا
آج سے ٹھیک چالیس برس پہلے بیس دسمبر کو یحیی خان کی معزولی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صدر اور سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ یحیٰی سمیت کئی سینیئر جنرلز کو برطرف کردیا۔شیخ مجیب کو خصوصی فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائے موت منسوخ کردی اور قوم سے نشریاتی خطاب میں وعدہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے زمہ داروں کے تعین کے لئے ایک آزادانہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔
چھبیس دسمبر کو حکومت نے چیف جسٹس حمود الرحمان ، جسٹس انوار الحق ، جسٹس طفیل علی عبدالرحمان اور لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ الطاف قادر پر مشتمل حمود الرحمان کمیشن بنایا جس نے تین سو سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد پہلی رپورٹ انیس سو بہتر میں اور دوسری رپورٹ انیس سو چوہتر میں پیش کی۔
کھلی عدالت میں مقدمہ
کمیشن نے درج ذیل افسروں پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کی سفارش کی مگر۔
،تصویر کا ذریعہBBC WORLD SERVICE
،تصویر کا کیپشن
بھٹو حکومت نے یحیٰی خان کو گھر میں نظربند رکھا۔
سقوطِ مشرقی پاکستان کے وقت وہ صدر، چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، وزیرِ دفاع و خارجہ تھے۔ بھٹو حکومت نے انہیں گھر میں نظربند رکھا۔ جنرل ضیا الحق نے ان کی نظربندی ختم کردی۔ دس اگست انیس سو اسّی کو اپنے بھائی محمد علی کے گھر میں انتقال ہوا اور آرمی قبرستان میں فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین ہوئی۔
یحیٰی خان کے ڈپٹی کمانڈر انچیف اور ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر رہے۔ بھٹو حکومت نے انہیں بیس دسمبر انیس سو اکہتر کو برطرف کردیا۔ حالتِ گمنامی میں لاہور کینٹ کے ایک گھر میں انتقال ہوا۔
وہ صدر کے پرسنل سٹاف آفیسر اور ناک کا بال تھے۔ وہ بھٹو اور یحییٰ کے درمیان رابطے کا مبینہ پل سمجھے جاتے تھے۔ بیس دسمبر کو انہیں بھی عہدے سے برطرف کردیا گیا۔ بعد ازاں تادمِ مرگ گوشہ نشین رہے۔
سقوطِ ڈھاکہ کے وقت وہ چیف آف جنرل سٹاف تھے۔ تاہم بھٹو حکومت نے انہیں برطرف کرنے کے بجائے لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر فوج کا کمانڈر انچیف مقرر کردیا۔ لگ بھگ ڈھائی ماہ بعد انہیں، ائرفورس کے سربراہ ائر مارشل رحیم خان اور نیوی کے سربراہ مظفر حسن کو ایک ساتھ برطرف کردیا گیا۔ اگرچہ کمیشن نے گل حسن پر بھی کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کی سفارش کی تھی تاہم بھٹو حکومت نے سروس سے برطرفی اور تمام مراعات و تمغے واپس لینے کے بعد انہیں آسٹریا میں سفیر مقرر کردیا۔
گل حسن پاکستان کے آخری کمانڈر انچیف تھے۔ ان کے بعد اس عہدے کو چیف آف آرمی سٹاف سے بدل دیا گیا۔ جنرل گل حسن کی یاداشتیں انیس سو ترانوے میں شائع ہوئیں۔ انہوں نے آخری زندگی پنڈی کلب کے دو کمروں میں گذار دی اور وہیں دس اکتوبر انیس سو ننانوے کو انتقال ہوا۔ مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔
وہ نیشنل سکیورٹی کونسل میں یحیٰی خان کے نائب تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے پاکستانی صنعت کاروں سے فنڈز جمع کیے۔ اس زمانے میں فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ بریگیڈیر ریٹائرڈ اے آر صدیقی کے بقول لگ بھگ دو کروڑ روپے جمع ہوئے۔ مگر الطاف گوہر کے ایک مضمون کے مطابق اٹھائیس لاکھ روپے دوست سیاسی قوتوں میں تقسیم کرنے کے لیے دیے گئے۔ اس رقم کو آئی ایس آئی کے سربراہ میجر جنرل اکبر خان اور راؤ فرمان علی کے توسط سے استعمال ہونا تھا۔ لیکن کیا ہوا کیا نہیں کسی کے پاس حتمی تفصیل نہیں۔ بھٹو حکومت نے غلام عمر کو بھی بیس دسمبر کو برطرف کیا اور کچھ عرصے نظربند رکھا۔ ضیاء الحق کے دور میں وہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے چیرمین رہے۔
بیس دسمبر کو جب جنرل گل حسن کی سفارش پر ان کی برطرفی ہوئی تو جنرل مٹھا فوج کے کوارٹر ماسٹر جنرل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مشرقی پاکستان میں پچیس مارچ کے آپریشن سرچ لائٹ کی ٹکنیکل پلاننگ میں حصہ لیا۔ دسمبر انیس سو ننانوے میں لندن میں انتقال ہوا۔ بعد ازاں لندن سے ان کے دوست نے جنرل مٹھا کی بیوہ اندو مٹھا کو یہ جملے لکھے: 'اپنی شاندار زندگی کے آخری دنوں میں وہ صرف ایک ایسا کمرہ چاہتا تھا جس میں وہ کھا پی سکے، لکھ پڑھ سکے اور سو سکے اور چہل قدمی کے لئے ایسی جگہ بھی ہو جہاں سے وہ سامنے پھیلا سبز میدان اور دور پہاڑ دیکھ سکے۔'
جنرل مٹھا نے ہی آرمی کے ایس ایس جی کمانڈو یونٹ کی بنیاد رکھی۔ انہیں آخری تعزیتی سلامی بھی ایس ایس جی کمانڈوز نے ہی دی۔ جنرل مٹھا نے اپنے پیچھے ایک کتاب چھوڑی 'ان لائکلی بگننگس۔اے سولجرز لائف، بمبئی سے جی ایچ کیو تک'۔
اکہتر کی جنگ میں یہ ون کور کے کمانڈر تھے۔ جس کے کمانڈ ایریا میں کنٹرول لائن سے سیالکوٹ تک کا دفاع شامل تھا۔ کمیشن کی سماعت کے دوران الزام لگا کہ انہوں نے شکر گڑھ کے پانچ سو دیہات بلا مزاحمت دشمن کے حوالے کردیے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد گمنام ہوگئے۔
ان کے پاس سیالکوٹ سیکٹر کے دفاع کی ذمہ داری تھی۔ الزام لگا کہ انہوں نے سیالکوٹ سیکٹر میں پھکلیا کے علاقے میں اٹھانوے گاؤں بغیر مزاحمت کے چھوڑ دیے اور جب جنگ بندی ہوئی تو بھارتی دستےمرالہ ہیڈورکس سے ڈیڑھ ہزار گز کے فاصلے پر تھے۔ مگر یہ راز میجر جنرل عابد زاہد جنگ بندی کے بعد ہی جی ایچ کیو کے علم میں لانے کی ہمت کرسکے۔
ان کا ٹارگٹ ایریا راجھستان سیکٹر تھا۔ ان پر الزام لگا کہ رام گڑھ کی جانب بغیر منصوبہ بندی کے عجلت میں پیش قدمی کے فیصلے سے بھاری نقصان ہوا۔
کورٹ مارشل کی سفارش
حمود الرحمان کمیشن نے درجِ ذیل افسروں کے کورٹ مارشل کی سفارش کی۔
،تصویر کا ذریعہBBC WORLD SERVICE
،تصویر کا کیپشن
جنرل نیازی پر اخلاقی بے راہ روی اور پان کی سمگلنگ کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
جنرل نیازی جب ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ بنائے گئے اس وقت تک وہ فوج کے سب سے زیادہ ڈیکوریٹڈ سولجر مانے جاتے تھے۔ انہیں دوسری جنگِ عظیم میں برما کے محاز پر بے جگری سے لڑنے پر ملٹری کراس اور ٹائیگر کا خطاب ملا۔ جب بیشتر جنرلوں نے ایسٹرن کمان کی پوسٹنگ لینے سے ہچکچاہٹ کا اظہار کردیا تو نیازی نے خود کو اس کام کے لیے پیش کردیا۔ کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے گواہوں نے جنرل نیازی پر اخلاقی بے راہروی اور پان کی سمگلنگ کے الزامات بھی عائد کیے۔ میجر جنرل راؤ فرمان علی نے کمیشن کے سامنے گواہی دیتے ہوئے جنرل نیازی سے یہ فقرے بھی منسوب کیے کہ 'یہ میں کیا سن رہا ہوں کہ راشن کم پڑ گیا۔ کیا سب گائے بکریاں ختم ہوگئیں۔ یہ دشمن علاقہ ہے۔ جو چاہتے ہو لے لو۔ ہم برما میں ایسے ہی کرتے تھے'۔
جنرل نیازی کے خلاف پندرہ الزامات میں کورٹ مارشل کی سفارش کی گئی۔ بھٹو حکومت نے جنرل نیازی کو رینکس اور ہلالِ جرات سمیت تمغے اور پنشن ضبط کرکے برطرف کردیا۔ انہوں نے اپنی کتاب 'دی بٹریل آف ایسٹ پاکستان' میں اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔ ایک سیاسی جماعت بھی بنائی۔ بھٹو کے خلاف تحریک میں پی این اے کے جلسوں سے بھی خطاب کرتے رہے۔ مرتے دم تک اپنے کورٹ مارشل کا مطالبہ کرتے رہے لیکن کسی حکومت نے بوجوہ دھیان نہیں دیا۔ دو فروری دو ہزار چار کو انتقال کرگئے اور سادگی سے دفن ہوگئے۔
ان کے ڈویژن کو ڈھاکہ کا دفاع کرنا تھا۔ ان پر حمود الرحمان کمیشن نے پانچ فردِ جرم عائد کیں۔ جن میں غبن، لوٹ مار اور ماتحتوں کی جانب سے نیشنل بینک سراج گنج شاخ سے ایک کروڑ پینتیس لاکھ روپے لوٹنے جیسے الزامات بھی شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سولہ دسمبر کے بعد ان کی اہلیہ کے قبضے سے خاصی کرنسی برآمد ہوئی۔ پاکستان واپسی کے بعد گوشہ نشین ہوگئے۔
ان کا ڈویژن چاند پور میں متعین تھا۔ پسپائی اختیار کرتے ہوئے زخمی ہوگئے اور بارہ یا تیرہ دسمبر کو ایک ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر برما کے علاقے اراکان میں اتر گئے۔ مگر قسمت مسلسل یاوری کرتی رہی۔ سیکرٹری جنرل وزارتِ دفاع اور چیرمین پی آئی اے رہے۔ الشفا آئی ٹرسٹ کے وائس پریذیڈنٹ رہے۔
وہ ڈھاکہ کے تحفظ کے ذمہ دار افسروں میں سے ایک اور جنرل نیازی کی ناک کا بال تھے۔ ان پر الزام ہے کہ دس دسمبر کو جب جی ایچ کیو نے یہ احکامات جاری کیے کہ پسپا ہونے والے دستے اپنے آلات اور رسد کو ناکارہ بناتے ہوئے اپنی جگہ چھوڑیں تو باقر صدیقی نے اس ڈنائل پلان پر عمل نہیں کیا۔ ان کے بریگیڈ نے جنرل ناگرہ کے سامنے رسمی طور پر ہتھیار ڈالے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دورانِ قید ان کے تعلقات نگراں بھارتی افسروں سے اتنے بہتر ہوگئے کہ کلکتہ میں کیمپ سے کبھی کبھار باہر جا کر شاپنگ بھی کرتے رہے۔ بریگیڈیر باقر صدیقی کو بعد ازاں ملازمت سے برطرف کردیا گیا لیکن پھر مختصر عرصے کے لیے بحال کرکے باعزت ریٹائر کیا گیا۔ کچھ عرصے پی آئی اے شیور کے بھی سربراہ رہے۔
ان کا بریگیڈ جیسور سیکٹر کا ذمہ دار تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ چھ دسمبر کو ہی جوانوں کو چھوڑ کر نکل لیے اور پوری سپلائی اور اسلحہ دشمن کے ہاتھ لگا۔ بعد ازاں ریٹائر کردیا گیا۔
ان کا بریگیڈ لکشم کے علاقے میں تعینات تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ نو دسمبر کو ایک سو چوبیس بیمار اور زخمی جوانوں کو چھوڑ کر نکل لیے۔ اور سارا راشن اور ایمونیشن دشمن کے ہاتھ لگ گیا۔
حمود الرحمان کمیشن نے مندرجہ ذیل افسروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی۔
ان کا نام ان ایک سو پچانوے افراد کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا جن پر حکومتِ بنگلہ دیش جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام لگاتی ہے۔
خان صاحب فوج میں مونچھوں کے سبب زیادہ مشہور تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں محبِ وطن اور غیر محبِ وطن بنگالیوں کی سکریننگ بھی شامل تھی۔ جب بھارتی ائربورن دستے ڈھاکہ کے نواح میں اترنے شروع ہوئے تو عبدالقادر ڈھاکہ کے مضافاتی علاقے جمال پور میں بریگیڈ کمان کررہے تھے۔ یہ اس مغالطے میں قیدی بن گئے کہ پیراشوٹوں سے ان کی مدد کے لیے چینی فوج اتر رہی ہے۔
اس کے علاوہ بریگیڈیر منظور احمد ( کمانڈر ستاون بریگیڈ ۔ نو ڈویژن) کے خلاف بھی محکمہ جاتی ایکشن کی سفارش کی گئی۔
کمزور پیشہ ورانہ صلاحیتیں
کمیشن نے مندرجہ ذیل افسروں کے بارے میں کہا کہ یہ اپنی کمزور پیشہ ورانہ صلاحتیوں کے سبب مزید عسکری ذمہ داریوں کے قابل نہیں۔
پاکستان واپسی کے بعد لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیرمین رہے۔ جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا۔ بعد ازاں جماعتِ اسلامی کے احتساب سیل کے نگراں رہے اور فروغِ تعلیم و صحت کی این جی او میں بھی فعال رہے۔ چودہ جنوری دو ہزار چار کو انتقال ہوا۔
حمود الرحمان کمیشن کی جانب سے کارروائی کی سفارش کے علاوہ ان کا نام ایک سو پچانوے افسروں کی مطلوب حکومتِ بنگلہ دیش کی فہرست میں بھی شامل رہا۔ مگر وہ گوشہ نشین ہوگئے۔
ان کے دستے نٹور کے علاقے میں تعینات تھے۔ کھانے پینے کے بہت شوقین تھے۔ جب گرفتار ہوئے تو اس وقت بھی کچھ چٹ پٹا کھا رہے تھے۔
،تصویر کا ذریعہBBC WORLD SERVICE
،تصویر کا کیپشن
انیس سو تہتر میں بھارتی قید سے واپسی پر راؤ فرمان علی کو ریٹائر کردیا گیا۔
وہ دس برس سے زائد عرصے تک مشرقی پاکستان میں مختلف ذمہ داریاں نبھاتے رہے جس میں انٹیلی جینس اور سیاسی جوڑ توڑ کے امور بھی شامل تھے۔ ڈائری لکھنے کے شوقین تھے۔ان کی قبضہ شدہ ڈائری میں یہ جملہ بھی تھا 'مشرقی پاکستان کے سبزہ زار کو سرخ کرنا ہوگا'۔
حسن ظہیر نے اپنی کتاب 'دی سیپریشن آف ایسٹ پاکستان' میں راؤ صاحب کو ڈھاکہ میں چوبیس مارچ کی رات کو شروع ہونے والے آپریشن سرچ لائٹ کا اہم ذمہ دار قرار دیا۔
جنرل نیازی نے اپنی کتاب میں الزام لگایا کہ ہتھیار ڈالنے سے دو روز پہلے راؤ فرمان علی نے قید میں موجود دو سو کے لگ بھگ بنگالی دانشوروں اور اساتذہ کو قتل کروادیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ واردات فوج نے کی یا البدر اور الشمس رضاکاروں کے ذریعے ہوئی۔
انیس سو تہتر میں بھارتی قید سے واپسی پر راؤ فرمان علی کو ریٹائر کردیا گیا۔ تاہم ان کی پنشن، رینکس اور تمغے بحال رہے۔ جولائی ستتر میں ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جو الیکشن سیل بنایا اس میں بھی فعال رہے۔ پھر ضیاء کابینہ میں دو برس پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر رہے۔ انہوں نے اپنی کتاب 'پاکستان کیسے تقسیم ہوا' میں اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔اکیس جنوری دو ہزار چار کو راؤ فرمان علی انتقال کرگئے۔
تذکرہ لیکن واضح سفارش نہیں
ان کے علاوہ کچھ اور بھی کردار ہیں جن کا کمیشن کی رپورٹ میں تذکرہ تو ہے لیکن کسی طرح کی کارروائی کی واضح سفارش نہیں کی گئی جیسے،
،تصویر کا ذریعہBBC WORLD SERVICE
،تصویر کا کیپشن
لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان بینظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں گورنر پنجاب رہے۔
لیفٹننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان کے استعفے کے بعد انہیں ایسٹرن کمان کے سربراہ کے طور پر ڈھاکہ بھیجا گیا۔ چوبیس اور پچیس مارچ کی درمیانی شب آپریشن سرچ لائٹ انہوں نے ہی شروع کیا۔ ان سے یہ فقرہ منسوب ہے کہ 'مجھے لوگ نہیں زمین چاہئیے'۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں ان کی جگہ جنرل نیازی نے لے لی اور ٹکا خان کو ملتان کور سونپ دی گئی۔
تین مارچ انیس سو بہتر کو بھٹو حکومت نے ٹکا خان کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کمانڈر انچیف کا عہدہ ختم کرکے پہلا چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا۔ جنرل ضیاء کے دور میں وہ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے۔ کئی مرتبہ گرفتار بھی ہوئے۔ بینظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں گورنر پنجاب رہے۔
اٹھائیس مارچ دو ہزار دو کو ٹکا خان کا انتقال ہوا۔ ان کے جنازے میں اعلیٰ سویلین و فوجی قیادت شریک ہوئی اور فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا 'وہ ملک کے اعلیٰ عہدوں پر سخت محنت اور قانون کی حکمرانی کے سبب پہنچے'۔
حمود الرحمان کمیشن کے روبرو گواہوں نے ان پر اور پانچ دیگر فوجی افسروں اور ان کے زیرِ کمان یونٹوں پر لوٹ مار، قتل وغارت میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے۔ بقول جنرل نیازی بدعنوانیوں کی پاداش میں بریگیڈیر ارباب اور ان کے ساتھی جونیئر افسروں کے کورٹ مارشل کی سفارش کی گئی اور انہیں مغربی پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد جنرل ارباب بحثیت کمانڈر فائیو کور سندھ کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور گورنر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفیر بھی رہے۔
انیس سو انہتر سے دو مارچ بہتر تک بحریہ کے سربراہ رہے۔ انہیں، فوج کے سربراہ گل حسن اور فضائیہ کے سربراہ ائرمارشل رحیم خان کے ساتھ فوج کی جیک برانچ کی سفارش پر مراعات ضبط کرکے عہدے سے برطرف کردیا گیا۔ دورانِ جنگ انہیں فضائیہ سے مدد نہ ملنے کی مسلسل شکایت رہی۔ اس بارے میں فضائیہ کے سربراہ ائرمارشل رحیم خان کا یہ فقرہ بہت مشہور ہوا جو انہوں نے مظفر حسن سے کہا: 'اولڈ بوائے۔۔۔جنگوں میں ایسا ہوتا ہے۔ مجھے افسوس ہے تمہارے جہاز ڈوب گئے۔۔'
دورانِ جنگ پاک فضائیہ کے سربراہ رہے۔ بھٹو کو اقتدار کی منتقلی میں گل حسن کے ساتھ اہم کردار ادا کیا۔ مگر تین مارچ 1972 کو جیگ برانچ کی سفارش پر برطرف ہوئے اور مراعات ضبط ہوگئیں۔ بھٹو نے تالیفِ قلب کے لیے سپین میں سفیر بنا دیا لیکن تیرہ اپریل ستتر کو انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاجاً سفارت سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد امریکہ میں بس گئے اور وہیں اٹھائیس فروری انیس سو نوے کو انتقال ہوا۔
کچھ افسروں کے پاس اہم ذمہ داریاں تھیں لیکن ان کا کردار زیرِ بحث نہ آسکا جیسے،
انیس سو چھیاسٹھ سے اکہتر تک ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی رہے۔ انہوں نے یحییٰ خان کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جنرل غلام عمر کے ساتھ مل کر ستّر کے انتخابات میں حسبِ منشا نتائج حاصل کرنے کے لیے خاصی تگ و دو کی۔ آئی ایس آئی کی ویب سائٹ پر ان کا رینک بریگیڈیر لکھا گیا ہے۔ غالباً انہیں ایک رینک نیچے کردیا گیا تھا۔
کردار نبھانے سے انکار
مگر کچھ ایسے جرنیل بھی تھے جنہوں نے آنکھ بند کرکے ڈرامے کے کردار نبھانے سے انکار کردیا جیسے،
،تصویر کا ذریعہBBC WORLD SERVICE
،تصویر کا کیپشن
صاحبزادہ یعقوب علی خان کو مشرقی پاکستان کے حوالے سے حکومتی حکمتِ عملی سے اختلاف تھا۔
جب مشرقی پاکستان میں ایجی ٹیشن زوروں پر تھا تو یہ ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ اورمارشل لاء ایڈمنسٹریٹر زون بی تھے۔ انہوں نے سات مارچ اکہتر کو فوجی قیادت کی مشرقی پاکستان کے تناظر میں سیاسی و عسکری حکمتِ عملی سے اختلاف کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔
ان کا شمار پاکستانی بحریہ کے معماروں میں ہوتا ہے۔ سات مارچ انیس سو اکہتر کو یحییٰ حکومت کی مشرقی پاکستان سے متعلق پالیسوں پر اختلاف کرتے ہوئے وہاں کی گورنری سے استعفیٰ دے دیا۔ پنڈی کی فوجی قیادت کے سامنے وہ تنِ تنہا مشرقی پاکستان کا سیاسی مقدمہ لڑتے رہے جس پر انہیں'ایک مشکل آدمی' اور 'بنگالیوں کے ہاتھوں بکنے والا' جیسے طعنے بھی سننے پڑے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے سربراہ بھی رہے۔ انہوں نے پورٹ قاسم کی بنیاد رکھی۔ آخری زندگی گوشہ نشینی میں گذاری اور چار دسمبر انیس سو نواسی کو انتقال ہوا۔ اعلیٰ سول و فوجی قیادت کی موجودگی میں اعزاز کے ساتھ کراچی کے فوجی قبرستان میں تدفین ہوئی۔
اور ہزاروں ایسے فوجی جوان اور افسر بھی تھے جنہیں محلاتی سازشوں اور پیچ و خم کی کوئی خبر نہیں تھی جن کا نام دوستوں اور دشمنوں نے عزت سے یاد رکھا۔ جیسے فلائٹ لیفٹننٹ راشد منہاس، میجر محمد اکرم، میجر شبیر شریف، سوار محمد حسین، لانس نائک محفوظ وغیرہ۔
بیوروکریٹس اور سیاستدان
کچھ بیورو کریٹس نے یحییٰ حکومت کے ہر اقدام کی رطب السانی میں زمین آسمان ایک کررکھے تھے۔اس وقت زیادہ اصحاب کے تذکرے کی گنجائش نہیں۔ بطور نمونہ ایک نام کافی ہے جیسے،
،تصویر کا ذریعہBBC WORLD SERVICE
،تصویر کا کیپشن
روئیداد خان مشرقی پاکستان کے فوجی آپریشن کے آغاز سے جون انیس سو بہتر تک سیکرٹری اطلاعات رہے۔
ان کا شمار پاکستان کے سدا بہار بیورو کریٹس میں تھا۔ انہوں نے پانچ صدور کے ساتھ کام کیا۔ یحییٰ حکومت کے دوران انہوں نے بطور سیکرٹری اطلاعات اس بات کو یقینی بنایا کہ مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی بھنک مغربی پاکستان والوں کو نہ پڑ جائے۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے مینجنگ ڈائریکٹر اسلم اظہر کو ایک دستاویزی فلم 'دی گریٹ بٹریل' بنانے کا کام سونپا جس کی شوٹنگ مشرقی پاکستان کے مختلف علاقوں میں کی گئی۔
اس فلم کا مقصد مکتی باہنی کے مظالم اجاگر کرنا تھا۔ چونکہ یہ فلم آپریشن شروع ہونے کے چار ماہ بعد جولائی میں شوٹ ہوئی لہٰذا اس میں جو لاشیں اور کھوپڑیاں دکھائی گئیں ان کے بارے میں یہ طے نہ ہوسکا کہ انہیں کس نے مارا ہے۔ لہٰذا اس فلم کی سکریننگ کا منصوبہ کرکے اسے محمکہ اطلاعات کے ڈبوں میں بند کردیا گیا۔
روئیداد خان مشرقی پاکستان کے فوجی آپریشن کے مارچ میں آغاز سے جون انیس سو بہتر تک سیکرٹری اطلاعات رہے۔ اور پھر بھٹو حکومت نے انہیں کسی اور محکمے کی ذمہ داری سونپ دی۔ جنرل ضیاء الحق کے طویل عرصے سکریٹری داخلہ رہے۔ جب بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت برطرف ہوئی تو عبوری حکومت میں احتسابی سیل کے نگراں رہے۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد 'پاکستان، اے ڈریم گون ساور' لکھی۔ برٹش اور امریکن پیپرز کو بھی کتابی شکل دی۔ ان دنوں جمہوریت نواز، شہری حقوق کے وکیل اور تحریک انصاف کے حامی ہیں۔
جہاں تک سیاسی جماعتوں کا معاملہ ہے تو سوائے اصغر خان، ولی خان، جی ایم سید اور ملک غلام جیلانی مغربی پاکستان میں کم وبیش سب نے مشرقی پاکستان کے بارے میں سرکاری کہانی کو بلا سوال و جواب ہضم کرلیا۔ چھبیس مارچ کو ڈھاکہ سے کراچی پہنچنے پر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا ' خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا'۔ مئی انیس سو اکہتر میں امیرِ جماعتِ اسلامی مولانا مودودی نے کہا 'ہماری بہادر افواج نے پاکستان بچا لیا'۔
اگست اکہتر میں یحییٰ حکومت نے مشرقی پاکستان میں قومی اسمبلی کی اٹہتر اور صوبائی اسمبلی کی ایک سو ترانوے نشستوں کو خالی قرار دے کر ضمنی انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ لیکن امن و امان کی صورتِ حال کے سبب یہ ممکن نہ ہوسکا۔ چنانچہ ان نشستوں کو ایسٹرن کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر میں بندر بانٹ کرکے جماعتِ اسلامی، مسلم لیگ کے دھڑوں اور پیپلز پارٹی میں تقسیم کردیا گیا۔ لیکن بعد میں یہ عمل قالین کے نیچے خاموشی سے دبا دیا گیا۔
حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کو دبانے اور سیاسی جماعتوں کی خاموش و اعلانیہ تائید سے آئندہ کے لیے یہ بات طے ہوگئی کہ احتساب اور پاکستان دو مختلف اصطلاحیں رہیں گی۔ ستتر میں حکومت کا تختہ الٹا جانا، بھٹو کی پھانسی، بعد میں آنے والی حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ، بناسپتی اتحادوں کی تشکیل، کارگل اور مشرف کا برسر اقتدار آنا اور ہر حکومت پر غیر یقینی کے باوردی سائے اس سب کے ڈانڈے اکہتر کے سال میں ہونے والے واقعات سے آنکھیں موندنے سے جا ملتے ہیں۔چاہے کوئی پسند کرے یا نا کرے۔