Wednesday, 29 June 2011

معراج النبی ص از عزیز میاں

جب قریبِ عرش پہنچے شافیعِ روزِ جزا
تب خیال آیا کریں نعلین  پاؤں سے جدا
غائب سے ائی ندا 
یہ قصد ہے کیا آپ کا ؟
 تم پعِ نعلین  آؤ مصطفیٰ 
کانپتا ہے عرش یہ تو طالبِ نعلین ہے 
چوم لے نے دو اسے نعلین ؛ یہ بےچین ہے
عرض کی پھر آپ نے
اے خالقِ جن و بشر 
کیا سبب ہے طور پہ جب تو ہوا تھا جلوہ گر  
حکم تھا موسیٰ کو کریں نعلین پاؤں سے جدا 
اور مع نعلین مجھ کو عرش پر بلوا لیا 
غیئب سے ائی ندا
اس بات پر بھی غور ہو 
میاں تم کہاں موسیٰ کہاں 
وہ اور تھے تم اور ہو 
اور یا محمّد وہ نبی  تھے تم پیمبر بھی ہو اور محبوب بھی   
 وہ فقط طالب تھے تم طالب بھی ہو مطلوب بھی 
عرش کی زینت تمہی ہو مصطفیٰ 
فرشتے تو فرشتے خود خدا ے پاک کہتا ہے 
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ
نبی نبی یا نبی نبی 

Monday, 27 June 2011

Sunday, 26 June 2011

Sariki at its Best

اساں کلیھاں پڑھ پڑھ انج رہ گیے ، جل کہیں دے کول نماز پڑھوں ------  ہتھ بدھ بھانویں ہتھ کھول پڑھوں، اے پھول نا پھول  نماز پڑھوں ------ ہتھ تسبیح مسجد رقص کروں، پا گل وچ دول  نماز پڑھوں ----- جتھاں طارق ڈرکے نا ہوون، اوہا مسجد گول  نماز پڑھوں        


Monday, 21 February 2011

Imam Malik

Mālik was once sentenced to a lashing by the governor of Medina, the cousin of Caliph Abū Ja'far al-Manṣūr for narrating a hadith to the effect that a divorce obtained under coercion was invalid. The hadith in question had momentous political implications, because it supported those who argued that the caliph's authority was similarly invalid - because it, too, had been secured by means of coercion.

Eventually, Mālik was paraded through the streets in disgrace and ordered to insult himself publicly. He is reported to have said:

"""Whoever knows me, knows me; whoever does not know me, my name is Mālik ibn Anas, and I say: The divorce of the coerced is null and void!"""

When the incident was reported to al-Manṣūr, Mālik was ordered released, and his cousin was punished.

History of Mathematics

Saturday, 12 February 2011

Ahmed Faraz


کم نہیں طمع عبادات بھی تو حرص ے زر سے ---- فقر تو وہ ہے ، جو دین نا دنیا رکھے