پچاس ہزار لوگوں کو مروا کر بھی ***** کہتا ہے طالبان ہمارے دشمن نہیں .
تیرے دشمن تو بلکل نہیں ہیں ، تجھے تو پوری آزادی دی تھی کمپین کرنے کی
اور تمھارے سیاسی مخالفین کو گھر سے بھی نہیں نکلنے نہیں دیا تھا.
تہمارے دشمن تو بلکل نہیں ہیں
پر یاد رکھنا یہ بدبخت کسی کے نہیں ہیں. اور ایک دن یہ تمھیں بھی نشانہ
بناییں گے. یہ تمہاری غلط فہمی ہے کہ ان کے خلاف بات نہ کرکے تم اپنے آپ
کو بچا لو گے ان سے . یہ نہ ممکن ہے
باؤلے کتے نیں سب کو کاٹنا ہے کسی کو پہلے کسی کو بعد میں
Tuesday, 24 September 2013
Saturday, 21 September 2013
پاکستانی ریاست کی طالبان پالیسی
بچپن کے دن تھے ، میں کوئی چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا
ایک دن میں اور میرے کزن ڈیرے پر بیٹھے کھیل رہے تھے کہ ایک باؤلا کتا ڈیرے میں گھس آیا . ہم سب ڈر گیے. پرانے وقتوں میں باؤلا کتا (چھتا کتا) ایک بہت ہی خطرناک جانور شمار ہوتا تھا
ہم ڈر کے مارے چوبارے پر چڑھ گیے اور سے کتے کے خلاف آپریشن شروع کیا (یعنی اسے وٹے مارنا شروع کر دی
پر کتا "چھتا" تھا اور اپنی دھن کا پکا تھا. وہ بھی ہماری طرف منہ کر کے زور زور سے بھونکتا رہا
پھر ہمارے ایک نوکر کو ایک بہت ہی اچھوتا خیال آیا کیوں ناں کتے سے "مزاکرات" کیے جاییں. وہ چھت سے ہوتا ہوا گیٹ کے قریب والی دیوار پر پہنچا.
وہاں جا کر اس نیں ، گیٹ سے باہر گلی میں ، کوئی کتے کی پسندیدہ چیز پھینکی . جونہی وہ کتے کو نظر آی کتا اسکی طرف لپکا . پیچھے سے ہمارا نوکر دیوار سے نیچے اترا اور گیٹ بند کر دیا.
یوں ہماری باؤلے کتے سے جان چھوٹی.
یہ اور بات ہے چند دن بعد معلوم ہوا کہ وہ کتا اس کے بعد ہمارے کسی اور رشتے دار کے ڈیرے پر گھس گیا تھا اور وہاں کسی کو کاٹ لیا تھا . جس پر انھوں نیں کتے کو فائر مار کر "شہید" کر دیا.
کہانی ختم شد
Friday, 20 September 2013
Thursday, 19 September 2013
طالبان سے مزاکرات
جب سے پاکستان میں نواز شریف ، عمران خان ، مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی کی حکومت آیی ہے یہ بات واضح تھی کہ یہ لوگ اپنے بھائی لوگوں سے ضرور کوئی نہ کوئی ڈیل، مزاکرات یا پھر صلح نامہ کریں گے
اس کی اس لیے بھی ضرورت تھی کہ آرمی کوشش میں تھی کہ کسی طرح اپنا سر چھڑا سکے اور ساتھ ہی ٢٠١٤ میں کیوں کہ امریکہ بہادر افغانستان سے اپنی فوج لیکر جا رہا ہے . اور اس کے جانے کے بعد آرمی کو افغانستان میں اپنا پرانا کھیل جاری رکھنے کے لیے انہی 'عطار کے لونڈوں " کی ضرورت پڑے گی
یہ تمام ناپاک کھیل اس وقت آشکار ہونا شروع ہو گیا تھا جب مئی ٢٠١٣ کے الیکشن میں طالبان نیں اپنی مکمل کوشش کی تین سیاسی جماعتوں (پی پی پی ،اے این پی ، ایم قیو ایم) کو الیکشن سے باہر رکھا جاسکے
جس میں وہ کسی حد تک کامیاب رہے
میاں نواز شریف کے مینڈیٹ میں کافی سارا ہاتھ طالبان اوران کی پاکستان میں حمایتی طاقتوں کا بھی ہے . جس کے بدلہ نواز شریف حکومت نیں کسی نہ کسی صورت میں دینا ہی ہے
جس ایک صورت تو طالبان اور ان کے حمایتیوں سے مزاکرات ہیں اور پھر ان مزاکرات سے دوران ان کو منہ مانگی
کلین سلیٹ . اور ساتھ ہی ساتھ ان کا پاکستانی معاشرے میں ایسا انضمام کہ وہ کل کلاں پاکستان سے سیاسی سیٹ اپ میں بھی سٹیک ہولڈر بن سکیں
لیکن اس سارے عمل میں کچھ رکاوٹیں ہیں مثلا
طالبان جس طرح کا اسلام یا اس تشریح پاکستان میں نافذ العمل چاہتے ہیں وہ پاکستانی ریاست افورڈ ہی نہیں کر سکتی
امریکا اور ہندوستان موجود ہیں اور بلاشبہ طالبان کہ کچھ گروہوں میں ان کا اثر و راشوخ بھی ہے . وہ ہرگز نہیں چاہیں گے ایسا ہو
ایران ، ترکی اور پاکستان میں رہنے والے اہل تشیع بھی ہرگز نہیں چاہیں گے ایسا ہو
پاکستان میں لبرل سوچ رکھنے والے لوگ اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں، جو اس فری میڈیا کے دور میں کسی ایسی غیر فطری ڈیل کو نہیں ہونے دیں گے
ساتھ میں پاکستانی کی لبرل پولیٹیکل پارٹیوں کے لیے بھی یہ ایک زندگی موت کا کھیل ہے
تو مرے خیال میں طالبان-نواز گٹھ جوڑ کی یہ بیل مجھے نہیں لگتا منڈے چڑھے گی
PIA Captains Detained in UK for drink flying!
When ever i think PIA has seen its depth of her downfall. they come up with an other embracing episode.
Now this latest one.
One of PIA Captain was ready to fly the plane when was DRUNK.
Ops.
Would you prefer sitting in an Airline where a Captain can be allegedly doing that.
Very tough Question.
To make story more interesting the detained Captain for being DRUNK was son of General Faiz Chishti. A formal Army General who paved way for an islamist dictator Zia Al Haq.
Now this latest one.
One of PIA Captain was ready to fly the plane when was DRUNK.
Ops.
Would you prefer sitting in an Airline where a Captain can be allegedly doing that.
Very tough Question.
To make story more interesting the detained Captain for being DRUNK was son of General Faiz Chishti. A formal Army General who paved way for an islamist dictator Zia Al Haq.
Thursday, 29 August 2013
Thursday, 24 January 2013
عید میلاد النبی مبارک
تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا ---- کوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتا
سانس لیتا تو، اور میں جی اٹھتا ---- کاش مکّہ کی میں فضا ہوتا
ہجرتوں میں پڑاؤ ہوتا میں ---- اور تو کچھ دیر کو رکا ہوتا
تیرے حجرے کے آس پاس کہیں ---- میں کوئی کچا راستہ ہوتا
بیچ طائف بوقت ے سنگ زنی ---- تیرے لب پہ سجی دعا ہوتا
کسی غزوہ میں زخمی ہوکر میں --- تیرے قدموں میں جا گرا ہوتا
کاش احد میں شریک ہوسکتا ---- اور باقی نہ پھر بچا ہوتا
تیری کملی کا سوت کیوں نہ ہوا؟ ---- تیرے شانوں میں جھولتا ہوتا
چوب ہوتا میں تیری چوکھٹ کی --- یا تیرے ہاتھ کا عصا ہوتا
تیری پاکیزہ زندگی کا میں ---- کوئی گمنام واقعہ ہوتا
لفظ ہوتا میں کسی آیات کا ---- جو تیرے ہونٹ سے ادا ہوتا
میں کوئی جنگجو عرب ہوتا --- اور تیرے سامنے جھکا ہوتا
میں بھی ہوتا تیرا غلام کوئی ---- لاکھ کہتا؛ نہ میں رہا ہوتا
سوچتا ہوں میں تب جنم لیا ہوتا ---- جانے پھر کیا سے کیا ہوا ہوتا
چاند ہوتا تیرے زمانے کا ---- پھر تیرے حکم سے بٹا ہوتا
پانی ہوتا اداس چشموں کا ---- تیرے قدموں میں بہ گیا ہوتا
پودہ ہوتا میں جلتے صحرا میں ---- اور تیرے ہاتھ سے لگا ہوتا
تیری صحبت مجھے ملی ہوتا ---- تب میں کتنا خوشنما ہوتا
مجھ پہ پڑتی جو تیری چشم کرم ----آدمی کیا ؛ میں معجزہ ہوتا
ٹکڑا ہوتا میں ایک بادل کا ---- اور تیرے ساتھ گھومتا ہوتا
آسمان ہوتا عہد نبوی کا ---- تجھ کو حیرت سے دیکھتا ہوتا
خاک ہوتا میں تیری گلیوں کی ---- اور تیرے پاؤں چومتا ہوتا
پیڑ ہوتا میں کھجور کا کوئی ----- جس کا پھل تو نیں کھا لیا ہوتا
بچہ ہوتا غریب بیوہ کا ---- سر تیری گود میں چھپا ہوتا
راستہ ہوتا تیرے گزارنے کا ---- اور تیرا رستہ دیکھتا ہوتا
بت ہی ہوتا میں خانہ کعبہ میں ---- جو تیرے ہاتھ سے فنا ہوتا
مجھ کو خالق بناتا غار حسن ---- اور میرا نام بھی حرا ہوتا
شاعر محترم حسن نثار صاحب
Saturday, 29 December 2012
ایک اور بھٹو سیاست کے میںدان میں
٢٧ دسمبر بینظیر کی برسی ہے اور اس سال یہ دن اس لئے بھی خاص تھا کہ اس دن پاکستان کی سیاست میں ایک اور بھٹو نیں سیاست کا اغاز کیا ہے . عوام خاص طور پر پی پی پی کے جیالوں ، پی پی پی کے مخالفوں ، اور میڈیا کو اس تقریر اور لانچ کا بے صابری سے انتظار تھا . ہر کوئی دیکھنا چاہتا تھا کہ اخر پی پی پی کیسے اپنے نیے لیڈر
کو میدان میں اتارتی ہے
میں انتظار کر رہا تھا کہ پہلے میڈیا پر بحث ختم ہو تو میں بھی کچھ اس پر لکھوں. تقریر میں براہ راست نہ سن سکا کام پر تھا . لیکن واپس اتے ہی مکمل ریکارڈنگ سنی. میرا خیال یہ تھا تقریر بہت اچھی تھی، اچھی لکھی ہوئی تھی، ادائیگی بہت اچھی تھی، اردو امید سے بہت زیادہ اچھی تھی. بلاول کی شخصیت کا بھی اچھا اثر تھا . پی پی پی کے جیالوں کے دل میں موجود تمام پہلوں کا ذکر تھا ، اپنی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر تھا . ناکامیوں کی وجوہات کا ذکر تھا ان تمام طاقتوروں کا اشاروں کنایوں میں ذکر تھا جن کیوجہ سے حکومت اس قدر کامیاب نہیں ہوسکی جس کی لوگوں کو امید تھی . بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، ائینی ترامیم ، صوبائی خودمختیاری ، عدلیہ کی غیر ضروری معاملات میں مداخلت، سیلابوں کے بعد آبادکاری ، عالمی کسادبازاری کے باوجود ملکی معیشت کی خود کفالت ، دشت گردی کے خلاف کھلا مواقف اور جنگ سمیت سب کامیابیوں کا ذکر تھا
پر جلسے میں موجود عوام میں وہ جوش یا ولولہ نظر نہیں آیا جو بینظر یا ذولفقار بھٹو کا خاصہ تھا. مخالفوں پر حملے بھی شدید نہ تھے
جہاں تک میڈیا میں اس تقریر پر رد عمل کا ذکر ہے تو وہ تو ہم گنہگاروں کو تقریر سے پہلے ہی پتا تھا کون اس میں سے صرف خامیاں ہی خامیاں ڈھونڈے گا. پر یہ بات اچھی رہی کہ سب نیں بلاول کی تقریر کی صلاحیت کو ضرور تعریف سے یاد کیا. کچھ لوگوں نیں تو اس کی مخالفت کرنی ہے کرنی ہے. کیوں کہ ان کی پی پی پی اور ان کے لیڈروں سے نظریاتی جنگ ہے . چاہے بھٹوز انہیں اپنے خون کا بھی نذرانہ پیش کریں انھوں نیں پھر بھی اس میں کوئی نہ کوئی کمی کا پہلو ڈھونڈھ لینا ہے
لیکن ملکی سیاست کےلئے بہت اچھا ہے کہ ایسا لیڈر میدان سیاست میں آیا ہے جو اپنے عصر سے ہم آہنگ ہے جسے یہ پتا ہے دنیا میں آزادی ،جمہوریت، حقوق ے نسواں ، اور معاشرتی انصاف کی کیا اہمیت ہے اور یہ سب کچھ کتنا
ضروری ہے. وہ دنیا کے ساتھ بات کرسکتا ہے ان کی بات سمجھ سکتا ہے اور انہیں اپنی بات سمجھا سکتا ہے
لیکن اس ملک میں ابھی بھی کچھ طاقتور حلقے ہیں جو یہ ہرگز ہرگز نہیں چاہتے کہ کوئی بھٹو اس ملک کو لیڈ کرے کیوں کہ ان کو چاہیے ہیں ایسے لیڈر جو ان کے اشارہ ابرو کے منتظر رہیں اور اسے دیکھ کر فیصلے کریں . اور ایسا کرنا بھٹوز کی سرشت میں نہیں
اسی لئے کھیل ابھی جاری ہے
Wednesday, 26 December 2012
ایک محفل میں کسی نے پٹھانے خان سے سوال کیا موسیقی حلال ہے یا حرام؟ اس ہمہ وقتی عاشق نیں جواب دیا "او سائیں کسی پڑھے گوڑھے سے پوچھتے، میں تو سدا کا ان پڑھ ہوں. بس اتنا جانتا ہوں کہ موسیقی ان کے لئے حلال ہے جو حلالی ہیں" ڈاکٹر انوار احمد خان کے کالم سے اقتباس
بینظیر کہانی
آییں یاد کریں اس عظیم خاتون لیڈر کو جو اپنے ہم عصر بونے سیاستدانوں، خاکیوں اور ججوں کے مقابل جرّت و بہادری کا کوہ ہمالیہ تھیں . وہ جس نیں ساری زندگی جمہوریت کی سیاست کی اور کبھی بھی تشدد گولی اور کردارکشی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استمال نہ کیا
وہ جس کی کردار کشی کے لئے ریاست ے پاکستان کے ہر ادارے نیں اپنا اپنا حصہ ادا کیا . وہ کہ جس کی جیت کو چرانے کیلئے خاکیوں نیں "اسلامی جمہوری اتحاد" نامی ٹیسٹ ٹیوب سیاسی پارٹیاں تشکیل دیں. وہ کہ جس کو ووٹ دینے پر فتوے جاری کیے کہ جو اس کی پآرٹی کو ووٹ ڈالے گا اس کا نکاح ساقط ہو جاے گا. وہ کہ جس کو سیلوٹ کرتے ہوۓ "غیرتمند" آرمی چیف کو کچھ کچھ ہوتا تھا . وہ کہ جس کی حکومت کو انیس ماہ میں چلتا کر دیا گیا . وہ کہ جس کے خاوند کو ١١ سال جیل میں رکھا گیا بغیر کسی جرم کے ثابت کیے تاکے اس کو جھکنے پر مجبور کیا جاسکے . لیکن نہ تو وہ جھکی اور نہ ہے اس کا خاوند . پھر زمانے نیں یہ بھی دیکھا کہ تاریخ کی سب سے مکروہ کردار کشی کو مہم چلائی گی اس کے اور اس کے خاوند کے خلاف
لیکن جب دوبارہ الیکشن ہوۓ عوام نیں پھر اسے حکومت دی .اب کی بار دوبارہ اس کی حکومت کو چلتا کر دیا گیا الزام ووہی پر اس بار میر جعفر اس کی خود کی پارٹی سے تھا . دوبارہ ووہی احتساب ووہی کردار کشی ووہی خاوند جیل، بچے دربدر ایک پیشی راولپنڈی، اگلے دن لاہور ، پھر کراچی ، اگلے دن پشاور پھر دوبارہ راولپنڈی . مگر وہ پھر بھی نہ ٹوٹی . بدبختوں نیں تو یہاں تک بھی کیا کہ الیکشن کی تاریخ جان بوجھ کر اس وقت رکھی جب اس کا بچہ پیدہ ہونے کے دن قریب تھے . اس کی اپنی حکومت میں اس کے بھائی کو دن دیہاڑے قتل کرکے الزام اس پر اور اس کے خاوند پر لگا دیا
٢٠٠٢ میں اس کے جیتے ہوۓ الیکشن ، اس کی پآرٹی میں سے ٢٠ سے زائد ایم این اے توڑ کر چرا لئے گیے . جب اس سے بات نہ بنی اور وہ اگلا الیکشن جیتتی نظر آی تو ٹھیک سال ٥ سال پہلے آج ہی کہ دن راولپنڈی کے ایک جلسے میں دن دیہاڑے ایک خودکش حملے شہید کر دیا گیا
پر تریخ کا جبر دیکھے اس ملک کے عوام جنھوں نیں ہر فری اور فیئر الیکشن میں اسے ووٹ دیا تھا ، اور ہر دفع ان کا ووٹ بدبخت چوری کر لیتے تھے . ان لوگوں نیں اس کے شہید ہونے کے بعد بھی اس کی پآرٹی کو ووٹ دیا اور اقتدار میں لے آیے
پر ان بدبخت قوتوں کا کھیل ابھی جاری ہےآج بھی ایک طرف اس کی پآرٹی اور مخالفت میں سب پرانے بیداد اکھٹے ہیں
کہانی ابھی جاری ہے
بینظیر کہانی
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
تم حیا - و -شریعت کے تقاضوں کی بات کرتے ہو ہم نے ننگے جسموں کو ملبو س -ے -حیا دیکھا ہے ہم نے دیکھے ہیں احرام میں لپٹے کئی ابلیس ...