Tuesday, 30 May 2017
Monday, 13 March 2017
100 most common English words
| Nouns
| Verbs
| Adjectives
| Prepositions
| Others
|
Thursday, 23 February 2017
Saturday, 18 February 2017
ماعت اسلامی کے خلاف سازش
اس صدی میں ہونے والی باقی ساری سازشیں ایک طرف لیکن سب سے بڑی سازش پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ، اس قوم کی بیٹیوں کی عصمت کی رکھوالی اور قوم کے بیٹوں کے اخلاق کی پہریدار جماعت اسلامی کے خلاف ہوئی ہے۔
جماعت کی خدمات پر ایک احتمالی نظر ڈالتے ہیں۔ جماعت نے پاکستان کی کافر تاریخ کو مشرف بہ اسلام کیا، پھر سکولوں کے استادوں کو سکھایا کہ یہ تاریخ پڑھائی کیسے جاتی ہے۔ جماعت نے ہمارے پہلے سے ہی مسلمان آئین کو مزید مسلمان کیا، پھر ججوں کو سکھایا کہ اس آئین کی تشریح کیسے کی جانی چاہیے۔ جماعت اسلامی نے کمیونزم کو شکست دی، سوویت یونین کے حصے بخرے کیے، کتنی ہی وسط ایشیائی ریاستوں کو آزاد کرایا، افغانستان کو تو اتنی دفعہ آزاد کرایا کہ خود افغانی پناہ مانگ اٹھے۔ کشمیر کو بھی تقریباً آزاد کروا ہی لیا تھا لیکن کشمیری نہیں مان کے دیے۔ اور تو اور اس نے ہم جیسے صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو بھی یہ ہنر سکھایا کہ اگر کوئی دلیل نہ بن پڑے تو کوئی آیت اور حدیث پڑھ دو، مخالف کا منہ بند ہو جائے گا۔
اور ان ساری خدمات کے بعد جماعت کو کیا ملا؟ (غیر پارلیمانی لفظ ہے لیکن کہنا پڑے گا) ٹھینگا۔
عین اس وقت جب جماعت اسلامی کا پاکستان پروجیکٹ تکمیل کے قریب تھا، سب کچھ کھوہ کھاتے میں جا پڑا۔ سعودی عرب سے آنے والے ٹھیکیدار شیخ اسامہ، لندن سکول آف اکنامکس میں پڑھے ہوئے لونڈے عمر شیخ اور پنجابی فلموں کے مشہور زمانہ ولن کا نام اختیار کرنے والے الیاس کشمیری جیسے لوگوں نے آ کر کہا کہ یہ سارا کام تم جیسے بوڑھے لوگوں کا نہیں، تم لوگوں کو تو اس کام کی الف بے کا بھی پتہ نہیں۔ کیا کالجوں، یونیورسٹیوں میں غیر جماعتیوں کی ٹانگیں توڑنے سے امت مسلمہ نشاط ثانیہ ہوسکے گی؟
اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے جماعت اسلامی کی عظمت رفتہ ہوگئی۔ اور اب یہ عالم ہے کہ جماعت ایک امریکی شہری ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے جلوس نکالتی ہے۔ آئی پی ایل میں نہ بکنے والے پاکستانی کرکٹ کھلاڑیوں کو تسلیاں دیتی ہے اور دیواروں پر گو امریکہ گو کے نعروں کی چاکنگ کرتی ہے۔ کئی انگریزی میڈیم بچے سمجھتے ہیں کہ جماعت امریکہ کے حق میں نعرے لگا رہی ہے۔ ایسے نازک وقت میں ہمیں جماعت کا ہاتھ تھام کر انہیں تسلی دینی چاہیے اور وہ بات کہنی چاہیے جو حضرت مودودی نے کہی تو نہیں لیکن کہہ بھی سکتے تھے۔ ٹماٹو کیچ اپ اسلام میں ہے، لیکن اسلام ٹماٹو کیچ اپ میں نہیں۔
Saturday, 11 February 2017
Friday, 10 February 2017
Wednesday, 1 February 2017
Friday, 6 January 2017
Monday, 5 December 2016
Saturday, 3 December 2016
اسیر شہزادی
سنگدل رواجوں کی یہ عمارت کہنہ
اپنے آپ پر نادم اپنے آپ سے لرزاں
جس کا زرہ زرہ ہے خود شکستگی ساماں
یہ خمیدہ دیواریں یہ جھکی ہوئی کڑیاں
سنگدل رواجوں کے خستہ حال زنداں میں،
یہ اسیر شہزادی
جبروخوف کی دختر، واہموں کی پروردہ
مصلحت سے ہم بستر، ضعف و یاس کی مادر
سنگدل رواجوں کے خستہ حال زنداں میں
ایک صدا مستانہ، ایک رقص رندانہ
یہ عمارت کہنہ ٹوٹ بھی تو سکتی ہے
یہ اسیر شہزادی چھوٹ بھی تو سکتی ہے
یہ اسیر شہزادی جس کا جسم شعلہ ہے
جس کی روح آہن ہے، جس کا نطق گویا ہے
بازوؤں میں قوت ہے، انگلیوں میں صناعی
یہ اسیر شہزادی جب نجات پاے گی
سانس لے گی دارانہ، محو رقص رندانہ
اپنی ذات پاے گی!!
فہمیدہ ریاض
Tuesday, 22 November 2016
ہمارے اور انکے باسٹرڈز
ہمارے اور انکے باسٹرڈز !
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ہمیں انیس سو اٹھاسی سے اب تک بتایا جا رہا ہے کہ مرحومہ بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری اور ان کے حوالی موالی اس ملک کا سب سے کرپٹ سیاسی ٹولہ تھا اور ہے۔
مگر یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساڑھے چار برس چھوڑ کر یہ کرپٹ ٹولہ تیسری بار کیسے اقتدار میں آگیا۔مسٹر ٹین پرسنٹ کس طرح پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے مومنینِ کرام، حاجی صاحبان اور متقی و پرہیزگار ارکان کی اکثریت کے ووٹ سے پاکستان کے صدر بن گئے۔یا تو زرداری کو صدر بنانے والے نیند میں چل رہے تھے یا پھر اتنے بھولے اور معصوم تھے کہ انہوں نے یقین کرلیا کہ جسے وہ صدر منتخب کر رہے ہیں اس کی شکل تو زرداری جیسی ہے لیکن اس مرتبہ اس کے جسم میں ایک معصوم نومولود کی روح حلول کرگئی ہے۔
جس طرح ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔اسی اصول کی بنیاد پر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آدمی اپنے ووٹ سے پہچانا جاتا ہے۔اگر کروڑوں عام اور ان کے منتخب کردہ پارلیمانی زرداریوں نے ووٹ دے کر آصف علی اور ان کی جماعت کو پانچ برس کے لیے اقتدار دے دیا تو اس میں افسوس اور واویلا کاہے کو ؟
کیا آپ نے کبھی کسی ایسے ووٹر کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا قانون بنایا جس پر دودھ میں پانی، پٹرول میں مٹی کا تیل، مرچوں میں سرخ اینٹ کا چورا، چائے میں لکڑی کا برادہ ، منرل واٹر کی بوتل میں نلکے کا پانی ملانے، بلیک مارکیٹنگ کرنے اور دو نمبر دوا، جعلی کھاد، جعلی بیج اور کاغذی سڑک بنانے کا الزام ثابت ہوجائے۔
کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کو ووٹ دینے سے انکار کیا جس کی شہرت ہو کہ وہ بینکوں کے قرضے ہڑپ کرگیا ، ٹیکس چوری میں مسلسل مبتلا ہے، جس نے بدمعاشوں، ڈاکووں ، قاتلوں، چوروں اور املاک پر قبضہ کرنے والے پیشہ وروں کا گروہ پال رکھا ہے۔جو عصمت دری کرنے والوں کی ضمانتیں کراتا ہے۔جو جھگڑے کے تصفیے میں نوعمر بچیوں کو بطور ہرجانہ دینے کے فیصلے کرتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کو ووٹ دینے سے انکار کیا جس کی شہرت ہو کہ وہ بینکوں کے قرضے ہڑپ کرگیا ، ٹیکس چوری میں مسلسل مبتلا ہے، جس نے بدمعاشوں، ڈاکووں ، قاتلوں، چوروں اور املاک پر قبضہ کرنے والے پیشہ وروں کا گروہ پال رکھا ہے۔جو عصمت دری کرنے والوں کی ضمانتیں کراتا ہے۔جو جھگڑے کے تصفیے میں نوعمر بچیوں کو بطور ہرجانہ دینے کے فیصلے کرتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی سیاست میں آنے والے کسی ایسے ریٹائرڈ ایماندار بیوروکریٹ، جج یا جرنیل کو قومی و صوبائی اسمبلی کا رکن یا ضلعی ناظم منتخب کرنے کی کوشش کی جس کے پاس ایک سے زائد گھر، گاڑی ، بینک بیلنس ، سینکڑوں ایکڑ مراعاتی زمین ، کھاد یا گیس کا مراعاتی کوٹہ یا کسی غیرملکی بینک میں اکاؤنٹ نہ ہو۔
کیا آپ میں سے کسی نے کبھی یہ مطالبہ کیا کہ ہر حاضر سروس جرنیل، جج، بیوروکریٹ یا سیاستداں، جب بھی اعلیٰ عہدہ یا ترقی پائے تو اپنی منقولہ و غیر منقولہ املاک اور کھاتوں کا گوشوارہ پیش کرے۔اور ان میں سے ہر سال بیس فیصد گوشوارے بذریعہ قرعہ اندازی مکمل چھان بین کے لیے منتخب کیے جائیں تاکہ باقی اسی فیصد اگلے گوشوارے میں غلط بیانی نہ کرسکیں۔
یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ووٹر کے گریبان میں چھپے ہوئے ہیں لیکن اسے بوجوہ نظر نہیں آتے۔مگر ان گذارشات کا یہ مطلب نہیں کہ گند صاف کرنے کا آغاز ہی نہ ہو۔چلئے آپ مشرف، شوکت، شجاعت سے آغاز نہ کرسکے نہ سہی، زرداری گیلانی سے ہی سہی۔لیکن ان ووٹروں کا بھی تو کچھ کیجئے جو موقع پاتے ہی پھر ایسے لوگوں کو کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔
ایک بات بتاؤں !
براعظم وسطیٰ امریکہ کے ملک نکاراگوا میں سموزا خاندان سنہ انیس سو تیس سے انیس سو اناسی تک مسلسل برسرِ اقتدار رہا۔ کسی نے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حضور نکاراگوا میں جمہوریت کا سورج کب نکلے گا اور وہاں کے لوگوں کو سموزا خاندان کی حرم زدگیوں سے کب چھٹکارا ملےگا۔روزویلٹ نے کہا یہ سچ ہے کہ سموزا حرامزادے ہیں۔لیکن وہ ہمارے حرامزادے ہیں۔۔۔
بقولِ شیخ سعدی اصفہان کے بھیڑئیے سے اصفہان کا کتا ہی نمٹ سکتا ہے۔جب تک اسٹیبلشمنٹ اپنے حرام زادوں کو تحفظ دیتی رہے گی۔عوام اپنے حرامزادے ان کے مقابل لاتے رہیں گے ۔۔۔۔
-
مکے گیاں گل مکدی نہیں بھانویں سو سو جمعے پڑھ آیے گنگا گیاں گل مکدی نہیں بھانویں سو سو غوطے کھائیے گیا گیاں گل مکدی نہیں بھانو...
-
تم حیا - و -شریعت کے تقاضوں کی بات کرتے ہو ہم نے ننگے جسموں کو ملبو س -ے -حیا دیکھا ہے ہم نے دیکھے ہیں احرام میں لپٹے کئی ابلیس ...

