Saturday, 3 December 2016

اسیر شہزادی

سنگدل رواجوں کی یہ عمارت کہنہ

اپنے آپ پر نادم اپنے آپ سے لرزاں

جس کا زرہ زرہ ہے خود شکستگی ساماں

یہ خمیدہ دیواریں یہ جھکی ہوئی کڑیاں

سنگدل رواجوں کے خستہ حال زنداں میں،

یہ اسیر شہزادی

جبروخوف کی دختر، واہموں کی پروردہ

مصلحت سے ہم بستر، ضعف و یاس کی مادر

سنگدل رواجوں کے خستہ حال زنداں میں

ایک صدا مستانہ، ایک رقص رندانہ

یہ عمارت کہنہ ٹوٹ بھی تو سکتی ہے

یہ اسیر شہزادی چھوٹ بھی تو سکتی ہے

یہ اسیر شہزادی جس کا جسم شعلہ ہے

جس کی روح آہن ہے، جس کا نطق گویا ہے

بازوؤں میں قوت ہے، انگلیوں میں صناعی

یہ اسیر شہزادی جب نجات پاے گی

سانس لے گی دارانہ، محو رقص رندانہ

اپنی ذات پاے گی!!

فہمیدہ ریاض

Tuesday, 22 November 2016

ہمارے اور انکے باسٹرڈز

BBC Urdu
آخری وقت اشاعت:  اتوار, 20 دسمبر, 2009, 11:12 GMT 16:12 PST

ہمارے اور انکے باسٹرڈز !

ہمیں انیس سو اٹھاسی سے اب تک بتایا جا رہا ہے کہ مرحومہ بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری اور ان کے حوالی موالی اس ملک کا سب سے کرپٹ سیاسی ٹولہ تھا اور ہے۔

مگر یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساڑھے چار برس چھوڑ کر یہ کرپٹ ٹولہ تیسری بار کیسے اقتدار میں آگیا۔مسٹر ٹین پرسنٹ کس طرح پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے مومنینِ کرام، حاجی صاحبان اور متقی و پرہیزگار ارکان کی اکثریت کے ووٹ سے پاکستان کے صدر بن گئے۔یا تو زرداری کو صدر بنانے والے نیند میں چل رہے تھے یا پھر اتنے بھولے اور معصوم تھے کہ انہوں نے یقین کرلیا کہ جسے وہ صدر منتخب کر رہے ہیں اس کی شکل تو زرداری جیسی ہے لیکن اس مرتبہ اس کے جسم میں ایک معصوم نومولود کی روح حلول کرگئی ہے۔

جس طرح ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔اسی اصول کی بنیاد پر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آدمی اپنے ووٹ سے پہچانا جاتا ہے۔اگر کروڑوں عام اور ان کے منتخب کردہ پارلیمانی زرداریوں نے ووٹ دے کر آصف علی اور ان کی جماعت کو پانچ برس کے لیے اقتدار دے دیا تو اس میں افسوس اور واویلا کاہے کو ؟

کیا آپ نے کبھی کسی ایسے ووٹر کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا قانون بنایا جس پر دودھ میں پانی، پٹرول میں مٹی کا تیل، مرچوں میں سرخ اینٹ کا چورا، چائے میں لکڑی کا برادہ ، منرل واٹر کی بوتل میں نلکے کا پانی ملانے، بلیک مارکیٹنگ کرنے اور دو نمبر دوا، جعلی کھاد، جعلی بیج اور کاغذی سڑک بنانے کا الزام ثابت ہوجائے۔

کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کو ووٹ دینے سے انکار کیا جس کی شہرت ہو کہ وہ بینکوں کے قرضے ہڑپ کرگیا ، ٹیکس چوری میں مسلسل مبتلا ہے، جس نے بدمعاشوں، ڈاکووں ، قاتلوں، چوروں اور املاک پر قبضہ کرنے والے پیشہ وروں کا گروہ پال رکھا ہے۔جو عصمت دری کرنے والوں کی ضمانتیں کراتا ہے۔جو جھگڑے کے تصفیے میں نوعمر بچیوں کو بطور ہرجانہ دینے کے فیصلے کرتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کو ووٹ دینے سے انکار کیا جس کی شہرت ہو کہ وہ بینکوں کے قرضے ہڑپ کرگیا ، ٹیکس چوری میں مسلسل مبتلا ہے، جس نے بدمعاشوں، ڈاکووں ، قاتلوں، چوروں اور املاک پر قبضہ کرنے والے پیشہ وروں کا گروہ پال رکھا ہے۔جو عصمت دری کرنے والوں کی ضمانتیں کراتا ہے۔جو جھگڑے کے تصفیے میں نوعمر بچیوں کو بطور ہرجانہ دینے کے فیصلے کرتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی سیاست میں آنے والے کسی ایسے ریٹائرڈ ایماندار بیوروکریٹ، جج یا جرنیل کو قومی و صوبائی اسمبلی کا رکن یا ضلعی ناظم منتخب کرنے کی کوشش کی جس کے پاس ایک سے زائد گھر، گاڑی ، بینک بیلنس ، سینکڑوں ایکڑ مراعاتی زمین ، کھاد یا گیس کا مراعاتی کوٹہ یا کسی غیرملکی بینک میں اکاؤنٹ نہ ہو۔

کیا آپ میں سے کسی نے کبھی یہ مطالبہ کیا کہ ہر حاضر سروس جرنیل، جج، بیوروکریٹ یا سیاستداں، جب بھی اعلیٰ عہدہ یا ترقی پائے تو اپنی منقولہ و غیر منقولہ املاک اور کھاتوں کا گوشوارہ پیش کرے۔اور ان میں سے ہر سال بیس فیصد گوشوارے بذریعہ قرعہ اندازی مکمل چھان بین کے لیے منتخب کیے جائیں تاکہ باقی اسی فیصد اگلے گوشوارے میں غلط بیانی نہ کرسکیں۔

یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ووٹر کے گریبان میں چھپے ہوئے ہیں لیکن اسے بوجوہ نظر نہیں آتے۔مگر ان گذارشات کا یہ مطلب نہیں کہ گند صاف کرنے کا آغاز ہی نہ ہو۔چلئے آپ مشرف، شوکت، شجاعت سے آغاز نہ کرسکے نہ سہی، زرداری گیلانی سے ہی سہی۔لیکن ان ووٹروں کا بھی تو کچھ کیجئے جو موقع پاتے ہی پھر ایسے لوگوں کو کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔

ایک بات بتاؤں !

براعظم وسطیٰ امریکہ کے ملک نکاراگوا میں سموزا خاندان سنہ انیس سو تیس سے انیس سو اناسی تک مسلسل برسرِ اقتدار رہا۔ کسی نے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حضور نکاراگوا میں جمہوریت کا سورج کب نکلے گا اور وہاں کے لوگوں کو سموزا خاندان کی حرم زدگیوں سے کب چھٹکارا ملےگا۔روزویلٹ نے کہا یہ سچ ہے کہ سموزا حرامزادے ہیں۔لیکن وہ ہمارے حرامزادے ہیں۔۔۔

بقولِ شیخ سعدی اصفہان کے بھیڑئیے سے اصفہان کا کتا ہی نمٹ سکتا ہے۔جب تک اسٹیبلشمنٹ اپنے حرام زادوں کو تحفظ دیتی رہے گی۔عوام اپنے حرامزادے ان کے مقابل لاتے رہیں گے ۔۔۔۔

Sunday, 20 November 2016

آج کا ہمارا اپنا کلام 


وہ شعر کہاں سے لائیں ہم 
جِسے سُنا کر تجھے منائیں ہم 
تیرے جانے کے بعد اب اکثر 
تیری یادوں سے دل بہلائیں ہم

Sunday, 9 October 2016

سلام با نذر امام عالی مقام 
(امام حسین (ع
٩/١٠/٢٠١٦

کربلا ایک استعارہ ہے
ہم کو اب جبر ناگوارا ہے 

جو بھی غاصب کے سامنے ہو سپر
ہر وہی شخص ہم کو پیارا ہے 

ہم گنہگاروں کو آخرت میں حسین 
صرف تمہارا ہی تو سہارا ہے 

اسلام نیں ہر ایک مشکل میں 
گھر تمھارے ہی کو پکارا ہے  

تو کہاں اور یزید لعین کہاں 
وہ کم نسب تو محمّد کا راج دلارہ ہے 

جبر و وحشت کے گھپ اندھیروں میں 
صرف تو ہی امید کا ستارہ ہے  

تیرا ہر بگڑا ہوا  کام اویس 
انھوں نیں ہی تو سنوارا ہے 

Thursday, 7 July 2016

سکھ چج کوئی یار مناون دا


راتیں جاگیں کریں عبادت
راتیں جاگن کتے، تیتھوں اتے 
بھونکنوں بند مول نہ ہندے
جا روڑی تے ستے، تیتھوں اتے 
خصم اپنے دا در نہ چھڈدے
بھاویں مارو سو سو جتے، تیتھوں اتے 
بلھے شاہ اٹھ یار منا لے
نئیں تے بازی لے گئے کتے تیتھوں اتے

پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویا
اپنے آپ نوں پڑھیا ای نئیں
جا جا وڑدا مندر مسیتاں
من اپنے وچ وڑیا ای نئیں
اینویں روز شیطان نال لڑدا
نفس اپنے نال لڑیا ای نئیں
بھلے شاہ اسمانی اڈدیاں پھڑدا
جیہڑا گھر بیٹھا اوہنوں پھڑیا ای نئیں

وے بولدے دی تینوں سمجھ ہے ناں
جیہڑا نت تیرے وچ بولدا ای
بھُلا آپ پھریں ٹولیں باہر اوس نوں
وانگر مرغیاں دے کُڑا پھولدا ای
بھَلا بُجھ خاں کون ہے وچ تیرے
شیت اوہ ہووے جیہنوں ٹولدا ای
بلھے شاہ جدا نئیں رب تیتھوں
آپے واج ماریں آپے بولدا ای

جے چاہ ہے دل نئوں لاون دا
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

ایہہ کُتا دَر دَر ہھرے 
تے دَر دَر دُر دُر ہووے
جے اک دَر دا ہو کے بہہ جا
کاہنوں دُر دُر ہووے
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

باہجوں قلب جے کریں عبادت
کدے نہ بنڑیں نمازی
جد تک عشق نہ ہوسی دل وچ
رب نہ ہوسی راضی
نہ بنڑ مومن نہ بنڑ کافر
نہ بنڑ بتناں قاضی
بھلے شاہ اٹھ یار منا لے
لا کے سر دی بازی
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

سر تے ٹوپی تے نیت کھوٹی
لینا کی ٹوپی سر دھر کے
تسبیح پھِری پر دل نہ پھریا
لینا کی تسبیح ہتھ پھڑ کے
چلے کیتے پر رب نہ ملا
لینا کی چلیاں وچ وڑھ کے
بُلھے شاہ جاگ بنا ددھ نئیں جمدا
پانویں لال ہوئے کڑھ کڑھ کے

باہروں دھوئے لتاں گوڈے
اندرے رہے پلیتی
کناں نوں ہتھ لائے پہلے
فیر نماز تاں نیتی
تیرا دل کھلاوے منڈے کڑیاں
سجدے کرے مسیتی
دنیا دارا! رب دے نال وی
چار سو وی تے کیتی
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

نہ میں پوجا پاٹھ جو کیتی
نہ میں گنگا نہایا
نہ میں پنج نمازاں پڑھیاں
نہ تسبا کھڑکایا
نہ میں تیہو روزے رکھے
نہ میں چِلہ کمایا
بھلے شاہ نوں مرشد ملیا
اوہنے اینویں چا بخشایا
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

چھڈ مسیت تے پکڑ کنارہ
تیری چُھٹے جان ثوابوں  
نہ کہو کلمہ جہیڑا کہندا منکر 
وے تو ہو رہو اک عذابوں
بلھے شاہ چل اوتھے وسیے 
جِتھے منع نہ کرنڑ شرابوں 
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

جیسے صورت عین ہے
ویسی صورت غین
اک نکتے دا پھیر ہے
فر توں وی عین کو غین
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

من اندر جوت لگا لے توں
یاری نال سجن دے لا لے توں
ایہو راہ ہے رب نوں پاون دا
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

گم اپنے آپ اچ ہو جا تُوں
اوہنوں لبھنا تے خود کھو جا تُوں
چھڈ وہم خیال توں آون دا
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

اوہدا رب نئیں رسدا رب دی سوں
جیہنوں یار مناؤنے دا چج ہووے
اوہو واٹ مکے دی کیوں پاوے
جیہدا یار نوں تکیاں حج ہووے
بہتی لوڑ نئیں ورد وظیفیاں دی
نہ ہی لمیاں نمازاں دا کم دیکھے
نچناں وی عبادت بنڑ جاندا
پر نچنے دا جے چج ہووے
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

چک گھونگٹ شرم حجاباں نوں
چھڈ درس تے پھُوک کتاباں نوں
ایتھے کم نئیں پڑھن پڑھاون دا
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

دَر دَر دی دُر دُر دے نالوں
دُر بنڑ اک دَر دا
جے اک در دا بنڑ کے بہہ جائیں
رہ جائے کج پردا
اس پردے دا اوہ در دامن
جس در دا توں بردا
جے سردار پھریں توں در در
صاحب معاف تے کردا
سِکھ چج کوئی یار مناون دا

بھلے شاہ ایہہ راز انوکھا اے
گل چھوٹی تے مُل چوکھا اے
ایتھے کم نئیں عقل دوڑاونڑ دا
سِکھ چج کوئی یار مناون دا