رحیم یار خان کا جلسہ
آج عمران خان صاحب نیں رحیم یار خان میں ایک کامیاب جلسہ کیا ہے . تعداد کے حساب سے یہ عمران خان کے ریکارڈ کے مطابق ریکارڈ ساز جلسہ تھا. خواتین، مرد بزرگ اور بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی
رحیم یار خان سرائیکی علاقے کا ایک دوردراز ضلع ہے جن میں چند طاقتور خاندان سیاسی طور پر چھاے ہوۓ ہیں ایک مخدوم خاندان ہے ، شیخ صاحبان ہیں، اور پھر ان کے کچھ مخالف ہیں
تحریک انصاف کا دور دراز سرائیکی علاقے میں جلسہ کرنا خود میں ایک بہت بڑی سیاسی کامیابی ہے. لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ لوگوں اور سیاسی خانوادوں کے پاس اب پی پی پی اور مسلم لیگ کے علاوہ میں آپشن ہے. فلحال تو میں رحیم یار خان کے سیاسی اکھاڑے میں کوئی خاص تبیلی نہیں دیکھ رہا . لیکن اگر صورت حال یہی رہی تو مجھے لگتا ہے دوسرے اور تیسرے نمبر کے امیدوار ضرور تحریک انصاف کی طرح راغب ہوں گے
پر جس بات نیں مجھے سب سے زیادہ مایوس کیا وہ عمران خان صاحب کا سپریم کورٹ کے کمیشن میں ائی ایس ائی اور ائی بی کی شمولیت کا اصرار تھا. کسی بھی سیاسی جماعت کے لیڈر کو کیسے یہ زیب دیتا ہے کہ وہ جاسوسی ادارے کو سیاسی مسائل کہ حل میں شامل کرے . خاص طور پر جب پہلے ہی فوج اور اس کے جاسوسی اداروں پر یہ مضبوط الزام ہوں کہ وہ ایک خاص طرح کی سیاسی پارٹیوں کو سپورٹ کرتے ہیں
لیکن جیسا کہ سمجھا جاتا ہے کہ عمران خان کے پیچھے یہی فوجی جاسوسی ادارے ہیں. اگر یہ بات سچ ہے تو عمران خان صاحب کی یہ سیاسی چال بلکل قابل فہم ہے. لیکن نواز شریف وغیرہ بھی اس کھیل کے پرانے اور جہاں دیدہ کھلاڑی ہیں وہ بھی ضورت پڑنے پر اپنے پتے خوب کھیلیں گے . ابھی تک تو وہ عمران خان کی ہرچال کا خوب جواب دے رہے ہیں اور اپنی حکومت بچانے میں کامیاب رہے ہیں