Wednesday, 23 June 2021
Sunday, 20 June 2021
Sunday, 13 June 2021
Thursday, 10 June 2021
Sunday, 6 June 2021
Resurgence of Taliban and Pakistan
That's very alarming.
We will bear the brunt,not the US, of this resurgence of Taliban.
Our custodians are hoping that they will be able to tame this monster again to use it for our geo-political gains. But I am worried that this will not be possible and it will lead to more Talibanization of our country
We will bear the brunt,not the US, of this resurgence of Taliban.
Our custodians are hoping that they will be able to tame this monster again to use it for our geo-political gains. But I am worried that this will not be possible and it will lead to more Talibanization of our country
Friday, 4 June 2021
Imran khan, dialogue with India, pre-requisites
یہ یا ان کی بعد کی حکومتیں اسی منہ سے ہندوستان سے ( جب وہ نا کشمیر کی پرانی حیثیت بحال کرے گا اور نا ہی روڈ میپ دے گا) سے بات چیت کریں گے۔
اس لیے خارجہ پالسیی میں آپ کو بات کو سوچ سمجھ ناپ تول کر کہنا ہوتا ہے لیکن کہاں ان کے تو جو منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں
Thursday, 3 June 2021
ملالہ دشمن
ملالہ مخالف ایک پورا طبقہ ہے ۔ جو اسے ملک دشمن اور ویسٹ کی ایجنٹ سمجھتا ہے اور اسے ملنے والے نوبل پرائیز کو بھی شک کینگاہ سے دیکھتا ہے۔ ملالہ جو بھی کہے گی انہوں نے اس کی مخالفت ہی کرنی ہے۔ انہوں نے تو کبھی اس پر ہونے والے جانلیوا حملے کو بھی کھلے دل سے قبول نہیں کیا اس بارے بھی کئی سازشی تھیوریاں بنائی اور پھیلائی ہیں۔
اس طبقے میں *عمومی طور پہ* کچھ مشترک صفات ہیں
- وہ مذہب اسلام کے سیاسی استعمال کے حامی ہیں
- وہ افغان طالبان کو "مجاہدین" سمجھتے ہیں
- پاکستانی طالبان کو دشمنوں کا ایجنٹ اور خارجی/فسادی سمجھتے ہیں۔
- امریکہ ہندوستان اور مغرب کو پاکستان/اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں
- مولانا اسرار احمد، ذاکر نائیک، مفتی تقی عثمانی ، مفتی مانیک صاحب کو اسلام کے اصلی ماہرین سمجھتے ہیں
- پاکستان میں رہنے والی تمام اقلیتیوں خاص طور پر احمدیوں سے نفرت کرتے ہیں اور انہیں ریاست میں برابر کا شہری نہیںسمجھتے
- عورت مارچ کے سخت مخالف ہیں اور میرا جسم میری مرضی جیسے نعروں سن کر لال پیلے ہوتے ہیں
- پاکستان فوج اور ایجنسیوں سے سیاست میں کردار کو ملک کے حق میں سمجھتے ہیں
- سیاست دانوں کو اس ملک کی برائیوں کی سب سے بڑی جڑ سمجھتے ہیں
- زیادہ تر خان صاحب کچھ نواز شریف صاحب کو سیاسی طور پر سپورٹ کرتے ہیں
- میڈیا کی آزادی پہ قدغنوں کو جائیز سمجھتے ہیں
- ملک کے ایک بہت بڑے طبقے کو دشمنوں کا ایجنٹ غدار اور ریاست دشمن سمجھتے ہیں
Tuesday, 1 June 2021
Budget debate; health and education versus defence
I think the problem is fundamental.
This country is a security state not a welfare state.
So that's why all money is being spent of security rather than on the welfare of the it's people.
Just imagine defence budget per years is 10-1500 billion rupees.
Now imagine last 10 years it will be 15,000 billion PKR on defence.
While health and education budget in last 10 years will not be worth 1 year of defence budget.
So un less we change the whole dynamic of the state where we spend more money on health education and the welfare of our people rather than their security we will still be having these problems.
This country is a security state not a welfare state.
So that's why all money is being spent of security rather than on the welfare of the it's people.
Just imagine defence budget per years is 10-1500 billion rupees.
Now imagine last 10 years it will be 15,000 billion PKR on defence.
While health and education budget in last 10 years will not be worth 1 year of defence budget.
So un less we change the whole dynamic of the state where we spend more money on health education and the welfare of our people rather than their security we will still be having these problems.
بنگلہ دیش اکانومی
صرف یہ ایک بات نہیں ہے۔ اور والے آرٹیکل میں لکھا ہے تین مین وجوہات جن پہ بنگالی اکانومی کھڑی ہے ان میں
ایکسپورٹ
معاشرتی ترقی
معاشی سمجھداری
شامل ہیں
ایک تو انہوں نے ملائیت سے جان چھڑوائی ہے
دوسرے فوج سے جان چھڑوائی
اور عوام کی فلاح اور معاشی ترقی پہ توجہ دی ہے۔ جس کے نتائج سامنے ہیں
ایکسپورٹ
معاشرتی ترقی
معاشی سمجھداری
شامل ہیں
ایک تو انہوں نے ملائیت سے جان چھڑوائی ہے
دوسرے فوج سے جان چھڑوائی
اور عوام کی فلاح اور معاشی ترقی پہ توجہ دی ہے۔ جس کے نتائج سامنے ہیں
Sunday, 30 May 2021
کشمیر پاکستان
خان صاحب بادشاہ آدمی ہیں ۔ جو منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں ۔ پھر حسب ضرورت یوٹرن لینے سے بھی نہیں چوکتے۔ کشمیر پاکستانی فارن پالیسی کا ایک بنیادی ستون ضرور ہے لیکن مشرف دور سے ہی کشمیر بارے ریاستی ادارے مان چکے ہیں جو جس کے پاس ہے اسکا ہے۔
اب مودی کے کشمیر کے سٹیٹس کو چینج کرنے کے بعد سے پاکستانی ریاستی پالیسی کشمیر بارے کنفیوژن کا شکار ہے۔ شاہ محمود صاحب نے فرمایا جس تک ہندوستان کشمیر کے سٹیٹس کو چینج کرنے والے اقدامات جب تک واپس نہیں لیتا تب تک بات چیت نہیں ہوسکتی ۔
پھر معلوم پڑا کے آئی ایس آئی اور را چیف آپس میں دبئی میں مل کر بات چیت کر رھے تھے۔
اب کیا خان صاحب ہندوستان سے تب تک بات چیت نہیں کریں گے جب تک کشمیر پہ لیے گیے اقدامات واپس نہیں ہوں گے ۔ میرا نہیں خیال مستقبل قریب میں ہندوستان وہ اقدامات واپس لے گا۔ شاید ان اقدامات کو واپس کروانے کے لیے بات چیت شروع کریں گے ۔ وللہ عالم
اب مودی کے کشمیر کے سٹیٹس کو چینج کرنے کے بعد سے پاکستانی ریاستی پالیسی کشمیر بارے کنفیوژن کا شکار ہے۔ شاہ محمود صاحب نے فرمایا جس تک ہندوستان کشمیر کے سٹیٹس کو چینج کرنے والے اقدامات جب تک واپس نہیں لیتا تب تک بات چیت نہیں ہوسکتی ۔
پھر معلوم پڑا کے آئی ایس آئی اور را چیف آپس میں دبئی میں مل کر بات چیت کر رھے تھے۔
اب کیا خان صاحب ہندوستان سے تب تک بات چیت نہیں کریں گے جب تک کشمیر پہ لیے گیے اقدامات واپس نہیں ہوں گے ۔ میرا نہیں خیال مستقبل قریب میں ہندوستان وہ اقدامات واپس لے گا۔ شاید ان اقدامات کو واپس کروانے کے لیے بات چیت شروع کریں گے ۔ وللہ عالم
احمدیت بارے رائے
مجھ گنہگار کی رائے تو یہ ہے
کہ میں اپنے عقیدے اور مذہب کا جواب دہ ہوں۔ میں اس کا جواب دے سکتا ہوں کہ میں کیا ہوں ۔ اور کس بات یہ یقین رکھتا ہوں ۔
اور جواب دہ بھی یا تو میں خود اپنے ضمیر کو ہوں یا پھر اپنے خدا کو۔
کوئی دوسرہ کیا عقیدہ رکھتا ہے
کیا وہ مسلمان ہے کافر ہے مشرک بدعتی جہنمی ہے
یہ میری اتھارٹی ہی ہے نا ہی مجھے خدا نے یہ حق دیا ہے کہ میں دوسروں کے ایمان و کفر کے فیصلے کروں ۔
باقی میں نے اپنی قبر میں جانا ہے اور دوسروے عقیدے و مذاہب کے لوگوں نے اپنی ، میں نے اپنے خواب دینے ہیں اور انہوں نے اپنے دینے ہیں ۔
اور مالک یوم الدین وہی ہے جو آخری فیصلہ صادر کرے گا ۔
یہ فرقہ پرستی ہے کہ میں اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے عقیدے کے بھی فیصلے کروں گا۔
کہ میں اپنے عقیدے اور مذہب کا جواب دہ ہوں۔ میں اس کا جواب دے سکتا ہوں کہ میں کیا ہوں ۔ اور کس بات یہ یقین رکھتا ہوں ۔
اور جواب دہ بھی یا تو میں خود اپنے ضمیر کو ہوں یا پھر اپنے خدا کو۔
کوئی دوسرہ کیا عقیدہ رکھتا ہے
کیا وہ مسلمان ہے کافر ہے مشرک بدعتی جہنمی ہے
یہ میری اتھارٹی ہی ہے نا ہی مجھے خدا نے یہ حق دیا ہے کہ میں دوسروں کے ایمان و کفر کے فیصلے کروں ۔
باقی میں نے اپنی قبر میں جانا ہے اور دوسروے عقیدے و مذاہب کے لوگوں نے اپنی ، میں نے اپنے خواب دینے ہیں اور انہوں نے اپنے دینے ہیں ۔
اور مالک یوم الدین وہی ہے جو آخری فیصلہ صادر کرے گا ۔
یہ فرقہ پرستی ہے کہ میں اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے عقیدے کے بھی فیصلے کروں گا۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
تم حیا - و -شریعت کے تقاضوں کی بات کرتے ہو ہم نے ننگے جسموں کو ملبو س -ے -حیا دیکھا ہے ہم نے دیکھے ہیں احرام میں لپٹے کئی ابلیس ...



