Tuesday, 28 October 2014

کربلا ! ہے تجھ سے کتنی دور وہ نہر فرات 
جس کے پانی سے رہی محروم مظلوموں کی ذات 
تشنگی جس سے بجھاتی تھی سپاہ ے بد صفات 
موت تھی سراب جس سے اور پیاسی تھی حیات 
تر نہ اپنے لب کیے اک صاحب احساس نیں 
جس کے ساحل پر تیمم کر لیا عبّاس نیں 

آج تک پھیلی ہے تجھ میں کیسی  زندہ روشنی 
رو کش اوج فلک ہے روضہ سبط نبی 
ایک اک ذرے میں لہریں لے رہی ہیں زندگی 
استراحت کر رہی ہے تجھ میں اولاد ے علی
دامن دریا میں خاک آستیں جھاڑے ہوۓ 
شیر اک ساحل پہ سوتا ہے علم گھاڑے ہوۓ 

کچھ جوانان قریش ،  چند بچے، بیبیاں
جنگ کا سامان تھا نہ کوئی خونچکاں 
دین و ایماں کی حفاظت صلح کل ورد زباں
پشت پر قبر محمد، سامنے باغ جناں
ایک پیغام ے محبت امن عالم گیر کا 
تھا علم میں ایک پھریرا چادر ے تطہیر کا
صبا اکبر آبادی


Monday, 27 October 2014

Tragedy of Karbala has no religion. Its a tragedy where few innocent people were hunted down by the barbarism of a dictatorial regime. till a single person is being oppressed, subdued, persecuted, and tyrannised, Karbala is relevent and ongoing… 


جو ظلم پہ لعنت نہ کرے آپ لعیں ہے 
جو جبر کا منکر نہیں وہ منکر دیں ہے

جوش ملیح آبادی




زندگی ہے بر سر ے آتش فشانی  یا حسین 
آگ دنیا میں لگی ہے ؛ آگ ؛ پانی یا حسین
پھر بشر کے ذہن پر عکس ے جنوں ہے یا حسین 
پھر حقیقت رہن ے اوہام و وسوں ہے یا حسین  
پھر دل اقدار  نازک غرق خون ہے یا حسین 
پھر بشر باطل کے آگے سر نگوں ہے یا حسین 

آ دل انجام کو پھر گرمی آغاز دے
اے بہادر وقت کی آواز پر آواز دے 

جوش ملیح آبادی
کر دیا ثابت یہ تو نیں اے دلاور آدمی 
زندگی کیا موت سے لیتا ہے ٹکر آدمی 
کاٹ سکتا ہے رگ ے گردن سے خنجر آدمی 
لشکروں کو روند سکتے ہیں بہتر آدمی 

جوش ملیح آبادی

Sunday, 26 October 2014

جنگ خیبر

لشکر نہ کر سکے گا تمہاری کوئی مدد ...... الله کہہ رہا ہے کہو یا علی مدد 

علمدار کا فوج شقی سے خطاب



اے فوج یہ کیا قہر ہے ، کیا بے ادبی ہے
سادات پے دو  روز سے یاں تشنہ لبی ہے
بے جرم و خطا سبط رسول عربی ہے 
مہماں ہے مسافر ہے دل و جان نبی ہے 
بھولو نہ وصیت کو رسول دو سرا کی 
تم ہو کلمہ گو یہ امانت ہیں خدا کی 

بن پانی تڑپتے ہیں یہ کس شخص کے اطفال 
سوچو یہ کوئی  اور ہے یا فاطمہ کا لعل
کیوں اپنے پیامبر کا چمن کرتے ہو پامال 
معصوم تو بے جرم ہیں اے قوم بد افعال 
دو تھوڑا سا پانی میرا دل غم سے تپا ہے 
یہ مشک ہے جس کی وہ بہت تشنہ دہاں ہے 

میر انیس 
بازو مصطفیٰ  کو غرض آ گیا جلال 
منہ ہو گیا جلال جہاں آفریں کا لال 
اٹھ کھڑے تھے غیض میں سارے بدن کے بال 
پھر شاہ ذولفقار نیں  تلوار لی سنبھال
ائی ندا یہ غیب سے؛ از جلد ناگہاں 
جبریل و مکایل و سرافیل کو کہ ہاں 
تھامو علی کے ہاتھ کو جلدی فرشتگاں
عرصہ کیا تو عالم ایجاد پھر کہاں !
اب میرا ہاتھ سمجھیو حیدر کے ہاتھ کو 
بس ایک ضرب کافی ہے اس کائنات کو 

مرزا دبیر 

Sunday, 19 October 2014

آ  گئی رخ پہ کدورت اصل پہچانی  گئی 
گر  گئی ساری نجابت شکل پہچانی  گئی 
جل گیا منکر علی کا نام سنتے ہی عقیل 
اور میں خوش ہوگیا کہ نسل پہچانی گئی

Sunday, 28 September 2014

کب کسی بے نوا سے کہتا ہوں
بات شیر خدا سے کہتا ہوں
دور ہوجا نظر سے اے مشکل
ورنہ مشکل کشا سے کہتا ہوں
I reply to the statement "رب کعبہ کی قسم الله کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں"

What about the following!
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی جمیل نہیں
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی غنی نہیں
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی حافظ نہیں
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی ناصر نہیں
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی عزیز نہیں
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی مصور نہیں
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی مالک نہیں
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی آقا نہیں
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی وکیل نہیں
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی ماجد نہیں
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی ظاہر نہیں
رب کعبہ کی قسم ، الله کے سوا کوئی وارث نہیں